انوارالعلوم (جلد 16) — Page 451
بعض اہم اور ضروری امور انوار العلوم جلد ۱۶ ہوکر گر گیا مگر اس تیسرے لڑکے کا بیان ہے کہ ایسا ہر گز نہیں ہوا۔شیخ صاحب نے اس کے متعلق لکھا ہے کہ لڑائی ہورہی تھی کہ ایک اور لڑکا آ گیا مارنے والوں نے اسے بھی میرا ہی لڑکا سمجھا۔شیخ صاحب کی تحریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ گویا وہ لڑکا اتفاقاً وہاں آ گیا تھا مگر میں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ میں بازار میں بیٹھا تھا کہ شیخ صاحب کے لڑکے میرے پاس آئے اور چونکہ میں ان کا دوست تھا اس لئے مجھے ساتھ لے کر گئے۔یہ تیسرا لڑکا بھی ملزم تھا اس لئے اُسے مدعی سے کوئی ہمدردی نہیں ہو سکتی۔پھر اس نے بعض ایسی باتیں بھی بیان کی ہیں جو خود اسکے خلاف ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا بیان درست ہے اور اس کا یہ بیان ہے کہ پہلے مدعی کو مارا گیا وہ بھاگا، بھاگتے ہوئے دہلیز سے ٹھوکر کھا کر گرا۔یہ لڑکے اُس کے پیچھے اندر جا گھسے اور اُسے مارنے لگے عورتوں نے شور مچایا اُس کا باپ آ گیا اس نے چھڑا یا اور پھر مدعی نے ان لڑکوں کو کچھ مارا مگر شیخ صاحب کے لڑکوں میں سے بے ہوش کوئی نہیں ہوا۔شیخ صاحب نے خاں صاحب مولوی فرزند علی صاحب پر بھی الزام لگایا ہے کہ انہوں نے بھی اس معاملہ میں دلچسپی لی میں نے اس کی بھی تحقیقات کی ہے۔بات صرف اتنی ہے کہ وہ لوگ جو مدعی ہیں وہ خانصاحب کے مزارع ہیں وہ ان کے پاس گئے اور اُن سے شکایت کی انہوں نے ان سے کہہ دیا کہ میں تو بیمار ہوں تم امور عامہ میں جاؤ انہوں نے کہا کہ ہمیں رقعہ لکھ دو چنانچہ خانصاحب نے رقعہ لکھ دیا بس اس سے زیادہ خانصاحب پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوتا۔شیخ صاحب نے پھر لکھا ہے کہ نظارت اور لوکل پریذیڈنٹ کا فرض تھا کہ وہ پہلے لڑکوں سے پوچھتے پھر کوئی قدم اُٹھاتے۔اس کے متعلق میں کہتا ہوں کہ ان کا بھی فرض تھا کہ اخبار میں لکھنے سے پہلے متعلقہ افراد سے پوچھ لیتے کہ واقعہ کیا ہے؟ اس مضمون کو پڑھ کر بعض دوستوں نے مجھے لکھا ہے کہ اس کا کوئی انتظام ہونا چاہئے مگر میں اتنا ہی کافی سمجھتا ہوں کہ تقریر میں اصل حالات کا ذکر کر دوں شیخ صاحب کی عادت ہے کہ وہ گھر کے جھگڑوں کو اخبار میں لے آتے ہیں حالانکہ انہیں بار بار سمجھایا گیا ہے کہ یہ عادت اچھی نہیں میں متواتر ہیں سال سے سمجھا رہا ہوں کہ وہ اپنی اس عادت کی اصلاح کریں مگر انہوں نے ابھی نہیں کی۔حقیقت یہ ہے کہ ان کے نو مسلم ہونے کی وجہ سے میں ان کا لحاظ بھی کرتا ہوں بعض ایسی باتیں ہیں جن کی وجہ سے میر قاسم علی صاحب مرحوم ( اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے) کا اخبار بند کر دیا گیا تھا ان کی طرف سے ہونے کے باوجود میں نے کوئی نوٹس نہیں لیا مگر ہر چیز کی حد ہوتی ہے ان کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے اسلام کی قیمت نہ ڈالیں بلکہ اپنے