انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 450

انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور نے ناظر صاحب امور عامہ کا بیان بھی لیا ہے انہوں نے بتایا کہ میرے پاس ایک شخص آیا اور شکایت کی کہ مجھے بعض نوجوانوں نے مارا ہے مجھے اجازت دی جائے کہ میں پولیس میں جاؤں اور میں نے اسے اجازت دے دی۔یہ بات بالکل غلط ہے کہ میں نے کہا کہ ان لڑکوں کو ضرور پکڑ واؤ اور قید کراؤ۔( یہاں میں اس امر کی وضاحت بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ہر کیس قابل دست اندازی پولیس نہیں ہوتا اور اس لئے یہ بُزدلی ہے کہ یہ خیال کر کے کہ گورنمنٹ کے افسر کیا کہیں گے ہر ایسے معاملہ کو پولیس میں بھیج دیا جائے۔میرے نزدیک اس کے لئے کوئی وجہ نہ تھی کہ ایسا معاملہ جس میں معمولی ضربات آئی تھیں پولیس کے حوالہ کر دیا جاتا یہ الگ بات ہے کہ اس معاملہ میں کسی نہ کسی وجہ سے پولیس بھی کوئی قدم نہ اٹھانا چاہتی تھی پھر بھی ناظر امور عامہ کو یادرکھنا چاہئے کہ جتنا حق قانون نے ہمیں دیا ہے اُسے نہیں چھوڑ نا چاہئے۔پہلے ہی حکومت نے بہت حد تک آزادیاں ہم سے چھین رکھی ہیں اور جو کچھ اُس نے حق ہمیں دیا ہے کوئی وجہ نہیں کہ اسے ہم خود چھوڑ دیں )۔پھر شیخ صاحب نے لکھا ہے۔شیرا کے ۲۷ سالہ لڑکے نے میرے لڑکے عزیز محمد ادریس پر بے تحاشا لاٹھیاں برسانی شروع کر دیں ایک لاٹھی سر پر بھی پڑی اور باقی پیٹھ پر مگر میرے لڑکے نے بہت صبر سے کام لیا اور ہاتھ نہ اُٹھایا مگر اس کے بعد اُس ظالم شخص نے میرے چھوٹے لڑکے عزیز بشیر احمد جس کی عمر ۱۴، ۱۵ سال کی ہوگی کے سر پر زور سے لاٹھی ماری جس سے یہ چھوٹا بچہ چکر کھا کر اور بے ہوش ہوکر زمین پر گر پڑا اگر اُس پر ایک اور لاٹھی پڑ جاتی تو وہ یقینا چت تھا یہ نقشہ دیکھ کر بڑے بھائی سے برداشت نہ ہوسکا اور وہ اُس ظالم سے گھتم گتھا ہو گیا میرے دونوں لڑکے نہتے تھے اگر ان کی نیت فساد کی ہوتی تو پھر وہ نہتے نہ ہوتے۔جب اور لیس اور شیرے کا لڑ کا مختھم گتھا ہورہے تھے تو ایک اور لڑ کا مدد کے لئے آیا اُس لڑکے کو اتفاقِ حسنہ سے شیرا اور اس کے لڑکے نے میرا لڑکا ہی سمجھا۔گویا ظلم دوسرے فریق کا تھا لیکن جس لڑکے کے متعلق اس میں لکھا ہے کہ وہ بچانے آیا میں نے اس واقعہ کے متعلق اُس کا بیان لیا ہے۔اُس نے کہا ہے کہ شیخ صاحب کے لڑکوں نے پہلے اُس شخص کو مارا وہ مار کھا کر اندر گھسا۔ان لڑکوں نے اس کا تعاقب کیا اندر سے عورتوں نے شور مچایا مضروب کا باپ آ گیا اس نے چھڑایا اور دونوں کو نصیحت کی۔پھر بے شک اس شخص نے بھی مارا مگر پہلے خواہ بُزدلی کی وجہ سے اور خواہ نیکی کی وجہ سے اُس نے نہیں مارا بلکہ ما رکھا کر بھاگا اور اندر داخل ہو گیا اتنے میں اُس کا باپ آ گیا اور پھر اُس نے بے شک لاٹھیاں ماریں۔شیخ صاحب نے لکھا ہے کہ میرے لڑکے پر بے تحاشالاٹھیاں برسائی گئیں اور وہ بے ہوش