انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 413

خدام الاحمدیہ سے خطاب انوار العلوم جلد ۱۶ لگاتی ہیں تو بعض دفعہ گھنٹوں بعد جب میں اُس کمرہ میں آتا ہوں تو فوراً پہچان لیتا ہوں کہ کسی نے یہاں فلاں عطر لگایا ہے حالانکہ وہ عطر گھنٹوں پہلے لگایا گیا ہوتا ہے۔اسی طرح ہندوستانیوں اور انگریزوں کے عطر کی خوشبو میں فرق ہوتا ہے ہندوستانی عام طور پر دیسی عطر لگاتے ہیں مگر انگریز ہمیشہ الکوہل سینٹس لگاتے ہیں بعض ہندوستانی بھی اگر چہ اب سینٹس لگانے لگ گئے ہیں مگر انگریز کبھی دیسی عطر نہیں لگاتے اب اگر کہیں سے ہمیں دیسی چنبیلی کے عطر کی خوشبو آئے یا دیسی گلاب کے عطر کی خوشبو آئے تو ہم فوراً فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہاں سے کوئی ہندوستانی گزرا ہے اسی طرح اور بہت سی معلومات خوشبو کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہیں اور بعض لوگ تو اس جس کو ایسا تیز کر لیتے ہیں کہ حیرت آتی ہے۔ولایت میں جو خوشبو کے کارخانے ہیں اُن کا دارو مدار ہی ایسے لوگوں پر ہوتا ہے چنانچہ بعض کارخانوں والے ہزاروں روپیہ ماہوار تنخواہ دے کر ایسے لوگوں کو ملازم رکھتے ہیں جو خوشبو سونگھ کر بتا دیتے ہیں کہ اس میں فلاں فلاں چیزیں پڑی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بعض دفعہ کسی ایک کارخانے کی خوشبو مشہور ہو جاتی ہے اب دوسرے لوگ چاہتے ہیں کہ اس کی نقل کریں اور ویسی ہی خوشبو خود بھی تیار کریں اس غرض کے لئے وہ ماہرین کو ملازم رکھتے ہیں۔وہ لوگ ان خوشبوؤں کو سونگھ کر جن کی نقل تیار کرنی ہو بتا دیتے ہیں کہ اس میں فلاں فلاں چیزیں پڑی ہیں اس میں غلطیاں بھی ہوتی ہیں مگر بہر حال انہیں خوشبو کی بنیادی اشیاء معلوم ہو جاتی ہیں اور آہستہ آہستہ وہ اسی بنیاد پر خود بھی ویسی ہی خوشبو تیار کر لیتے ہیں۔اسی طرح بعض لوگوں کی مزے کی جس اتنی تیز ہوتی ہے کہ حیرت آتی ہے اور یہ حس بھی بہت حد تک بڑھائی جا سکتی ہے۔کئی لوگ ایسے موجود ہیں جو دوائیاں چکھ کر بتا دیتے ہیں کہ اس میں فلاں فلاں دوائیاں پڑی ہیں۔قصہ مشہور ہے کہ ایک طبیب کی کسی دوائی کا بہت شہرہ ہو گیا مگر وہ اس دوائی کا نسخہ کسی کو نہیں بتا تا تھا اُسی زمانہ میں ایک اور مشہور طبیب تھا جس کی مزے کی جس بہت تیز تھی اور وہ چکھ کر بتا سکتا تھا کہ اس میں فلاں فلاں دوائیاں پڑی ہوئی ہیں مگر اُس طبیب کو وہ دوائی ملتی نہیں تھی۔جو مریض طبیب کے پاس آتا اُسے وہ اپنے سامنے دوائی کھلا دیتا تھا ساتھ دوائی نہیں دیتا تھا اس خوف سے کہ کہیں یہ دوائی دوسرے طبیب کے پاس نہ پہنچ جائے اور وہ اس کا نسخہ نہ معلوم کر لے۔اس طبیب نے بڑی کوشش کی کہ کہیں سے دوائی مل جائے مگر نہ ملی آخر وہ مریض اور اندھا بن کر اُس طبیب کے پاس گیا اور اپنی شکل میں بھی تبدیلی کر لی سر پر ایک بڑا سا کپڑا لپیٹ لیا اور اندھا اور مریض بن کر اُس کے پاس پہنچا اور اپنے مرض کی علامتیں وہی بتا ئیں جن پر