انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 412

خدام الاحمدیہ سے خطاب انوار العلوم جلد ۱۶ آواز کی صفائی کا بھی لحاظ رکھا گیا تھا اور آواز کے دُور تک پہنچنے کا بھی لحاظ رکھا گیا تھا۔گویا جو پہلو ضروری ہیں اُن کو انہوں نے ملحوظ رکھا تھا ایک کمی ہے جو دُور کی جانی چاہئے۔آئندہ ہر بڑی جماعت کو ہر عملی مقابلہ میں اپنے نمائندے بھیجنے کے لئے مجبور کرنا چاہئے تا کہ تربیت کی طرف مجالس کو زیادہ توجہ ہو میرے نزدیک تمام مشقوں میں سے ایک نہایت ہی اہم مشق جس سے دشمن کے مقابلے میں فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے اور جس کی طرف ہماری جماعت کے ہر فرد کو توجہ کرنی چاہئے حواس خمسہ کو ترقی دینے کی کوشش ہے یہ ایک نہایت ہی اہم اور ضروری چیز ہے میں نے افسوس سے یہ امرسُنا ہے کہ اس دفعہ وقت کی کمی کی وجہ سے اس قسم کے مقابلے کم رکھے گئے ہیں در حقیقت یہ توازن کی غلطی تھی ورنہ ان مقابلوں کے لئے زیادہ وقت مقرر کرنا چاہئے تھا مثلاً ناک کی جس ہے یہ ایک اعلیٰ درجہ کی جس ہے اور اس سے بڑے بڑے کام لئے جا سکتے ہیں ناک کی جس اگر تیز ہو تو اس سے صرف خوشبو اور بد بو کا ہی احساس ترقی نہیں کرتا بلکہ یہ بھی بتایا جاسکتا ہے۔کہ کس کس قوم میں کس کس قسم کی بُو پائی جاتی ہے۔وحشی اقوام میں یہ جس اتنی تیز ہوتی ہے کہ سونگھ کر بتا دیتی ہیں کہ یہاں سے فلاں قوم کا آدمی گزرا ہے۔مختلف قوموں میں خاص خاص قسم کی بُو پائی جاتی ہے مثلاً مجھ پر یہ اثر ہے کہ میں جتنے انگریزوں سے ملا ہوں مجھے اُن سے ایک قسم کی مچھلی کی بو آئی ہے۔اب اگر میرا یہ اثر صحیح ہو اور ہماری ناک کی جس تیز ہو تو خواہ ہماری آنکھیں بند ہوں ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی انگریز کھڑا ہے یا اگر ہمارے قریب سے کوئی انگریز گزرے گا ہم فوراً پہچان جائیں گے کہ کوئی انگریز گزر رہا ہے۔اسی طرح افغانستان کے باشندوں میں میں نے محسوس کیا ہے کہ اُن سے اُس کھال کی سی جس پر برسات گزری ہو بومحسوس ہوتی ہے۔اب اگر میرا یہ خیال صحیح ہو یا پچاس فیصدی ہی درست ہو تو کسی علاقہ میں سے گزرتے ہوئے اگر وہاں پٹھان ہوں گے ہم فوراً اپنی ناک کی جس سے پہچان لیں گے کہ یہاں پٹھان رہتے ہیں۔فرض کرو پٹھان ہمارے دوست ہیں اور جنگ کے موقع پر ہمیں ان کی امداد کی ضرورت ہے تو ہم اپنی اس ناک کی جس سے کام لے کر فوراً اپنے دوستوں کو شناخت کرلیں گے اور اُن کی مدد حاصل کر لیں گے اس قسم کی بُو کا احساس خصوصاً بند کمروں میں زیادہ ہوتا ہے کیونکہ وہاں بو زیادہ دیر تک رہتی ہے بعض دفعہ ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد بھی کسی کمرہ میں آؤ اور تمہاری ناک کی جس تیز ہو تو تمہیں فوراً پتہ لگ جائے گا کہ اس کمرہ میں کس قسم کے لوگ ٹھہرے ہیں۔میں نے دیکھا ہے میرے کمرہ میں عطر پڑا ہوا ہوتا ہے اور بعض دفعہ میری بیویاں وہاں آ کر عطر