انوارالعلوم (جلد 16) — Page 332
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) غلامی کیوں بُری کبھی جاتی ہے؟ جب میں نے اس غلامی پر غور کیا کہ یہ کس قسم کی غلامی ہے اور یہ کہ کیا اس غلامی کو قبول کرنا اس بازار کے سامان کے مقابلہ میں گِراں تو نہیں؟ تو میں نے سوچا کہ غلامی کیوں بُری ہوتی ہے اور پھر میرے دل نے ہی جواب دیا اس لئے کہ :- اول: اس میں انسان کی آزادی چھن جاتی ہے۔دوم: انسان کا سب کچھ دوسرے کا ہو جاتا ہے۔سوم: اس میں انسان کی خواہشات ماری جاتی ہیں۔چہارم: اس میں غلام اپنے عزیزوں سے جُدا ہو جاتا ہے۔بیوی بچوں سے نہیں مل سکتا بلکہ جہاں آقا کہے وہیں رہنا پڑتا ہے۔میں نے کہا یہ چار بُرائیاں ہیں جن کی وجہ سے غلامی کو نا پسند کیا جاتا ہے۔پس میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں آزاد ہو کر غلام کس طرح بن جاؤں اور کس طرح اس دھوکا اور فریب میں آ جاؤں۔میں انہی خیالات میں تھا کہ یکدم میں نے دیکھا کہ قید و بند میں مبتلا انسان اپنی حماقت میں ( اور میں سے مراد اس وقت انسان ہے نہ کہ سے اپنے آپ کو آزاد سمجھتا ہے میرا ذاتی وجود) جو اپنے آپ کو آزاد سمجھ رہا تھا، در حقیقت قید و بند میں پڑا ہوا تھا۔میں نے دیکھا کہ میری گردن میں طوق تھا، میرے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں اور میرے پاؤں میں بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں ، مگر میں یونہی اپنے آپ کو آزاد سمجھ رہا تھا ، حالانکہ نہ ہتھکڑیاں مجھے کام کرنے دیتی تھیں، نہ پاؤں کی بیڑیاں مجھے چلنے دیتی تھیں ، نہ گردن کا طوق مجھے گردن اونچی کرنے دیتا تھا۔یہ طوق اُن گنا ہوں ، غلطیوں اور بیوقوفیوں کا تھا جو مجھے گردن نہیں اُٹھانے دیتی تھیں اور یہ زنجیریں، اُن بد عادات کی تھیں جو مجھے آزادی سے کوئی کام نہیں کرنے دیتی تھیں۔بس میں اسی طرح ہاتھ ہلانے پر مجبور تھا جس طرح میری زنجیریں مجھے ہلانے کی اجازت دیتی تھیں اور یہ بیڑیاں اُن غلط تعلیموں کی تھیں جو غلط مذاہب یا غلط قومی رواجوں نے میرے پاؤں میں ڈال رکھی تھیں اور جو مجھے چلنے پھرنے سے روکتی تھیں۔تب میں حیران ہوا کہ انسان اپنے آپ کو کیوں آزاد کہتا ہے حالانکہ وہ بدترین غلامی میں جکڑا ہوا ہے۔نہ ہاتھوں کی ہتھکڑیاں اُسے کام کرنے دیتی ہیں نہ