انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 288

بعض اہم اور ضروری امور انوار العلوم جلد ۱۶ پھر تو بہت بڑی غلطی ہوئی اب کیا کروں۔کیا معافی مانگوں ؟ انہوں نے کہا ہاں معافی مانگ لو۔وہ گھر پہنچے اور بیویوں کو بلا کر کہا کہ مجھ سے تو بڑی غلطی ہوتی رہی جو میں تم کو مارتا رہا۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ تو گناہ ہے اور حضرت صاحب اس پر بہت ناراض ہوتے ہیں اس لئے مجھے معافی دے دو۔وہ دل میں خوش ہوئیں کہ آج ہمارے حقوق قائم ہونے لگے ہیں۔بگڑ کر کہنے لگیں کہ تم مارا ہی کیوں کرتے ہو؟ اُس نے کہا کہ بس غلطی ہو گئی اب معاف کر دو۔وہ کہنے لگیں کہ نہیں ہم تو معاف نہیں کریں گی۔اِس پر اُس نے کہا کہ سیدھی طرح معافی دیتی ہو یا ” لا ہواں چھل، یعنی کھال اُدھیڑوں۔وہ سمجھ گئیں کہ بس اب یہ بگڑ گئے ہیں جھٹ کہنے لگیں کہ نہیں ہم تو یونہی کہہ رہی تھیں آپ کی مار تو ہمارے لئے پھولوں کی طرح ہے۔ہندوستان میں عورتوں کو جانوروں سے بھی بدتر سمجھا جاتا ہے۔کتے کو اس طرح نہیں مارا جاتا، بیلوں اور جانوروں کو بھی اس طرح نہیں مارا جاتا جس طرح عورتوں کو مارا جاتا ہے اور عورتوں کے ساتھ ان کے اس سلوک کا یہ نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عورتوں کی پوزیشن دے دی ہے۔جب عورت کی عزت نہ کی جائے تو اولاد کے دل میں بھی خساست پیدا ہوتی ہے۔باپ خواہ سید ہو لیکن اگر اُس کی ماں کی عزت نہ ہو تو وہ اپنے آپ کو انسان کا بچہ نہیں بلکہ ایک انسان اور حیوان کا بچہ سمجھتا ہے اور اس طرح وہ بُزدل بھی ہو جاتا ہے۔پس عورتوں کی عزت قائم کرو اس کا نتیجہ یہ بھی ہوگا کہ تمہارے بچے اگر گیدڑ ہیں تو وہ شیر ہو جائیں گے۔يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ کے بعد ایمان وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ " کا حکم ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ دوسروں کے بزرگوں کا جائز ادب اور احترام کرو۔گویا اس میں صلح کی تعلیم دی گئی ہے پھر اس میں یہ بھی تعلیم ہے کہ تبلیغ میں نرمی اور سچائی کا طریق اختیار کرو۔آخری چیز یقین بالآخرۃ ہے اس کے معنے دو ہیں ایک تو مرنے کے بعد زندگی کا یقین ہے۔بعض دفعہ انسان کو قربانیاں کرنی پڑتی ہیں مگر ایمان بالغیب کی طرف اُس کا ذہن نہیں جاتا اُس وقت اس بات سے ہی اس کی ہمت بندھتی ہے کہ میری اس قربانی کا نتیجہ اگلے جہان میں نکلے گا۔پھر اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ انسان ایمان رکھے کہ خدا تعالیٰ مجھ پر بھی اسی طرح کلام نازل کر سکتا ہے جس طرح اُس نے پہلوں پر کیا اس کے بغیر اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت پیدا نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ سے محبت وہی شخص کر سکتا ہے جو یہ سمجھے کہ خدا تعالیٰ میری محبت کا صلہ مجھے ضرور دے سکتا ہے جس کے دل میں یہ ایمان نہ ہو وہ خدا تعالیٰ سے محبت نہیں کر سکتا۔