انوارالعلوم (جلد 16) — Page 287
انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور مگر ہاتھ پاؤں اور اپنی طاقت کو خرچ نہیں کرتا ، بیواؤں اور یتیموں کی خدمت نہیں کرتا وہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ اُس نے اس پر عمل کر لیا ہے تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں ساری قوتوں کو صرف کرنے کا حکم ہے۔جذبات کو بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں صرف کرنا ضروری ہے مثلاً غصہ چڑھا تو معاف کر دیا۔اسی کے ماتحت ہاتھ سے کام کرنا اور محنت کرنا بھی ہے۔اور میں خدام الاحمدیہ کو خصوصیت سے یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ خدمت خلق کی روح نوجوانوں میں پیدا کریں۔شادیوں بیا ہوں اور دیگر تقریبات میں کام کرو، خواہ وہ کسی مذہب کے لوگوں کی ہو۔اس کے بعد فرمایا وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ اس میں ایمان بِالقرآن کا حکم ہے مگر اس کو صرف ماننا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ہر حکم کو اپنے اوپر حاکم بنانا ضروری ہے۔سلسلہ میں میں نے احباب کو یہ نصیحت کی تھی کہ قرآن کریم نے عورتوں کو حصہ دینے کا جو حکم دیا ہے اس پر عمل کریں۔اور چند سال ہوئے جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے احباب سے کہا تھا کہ کھڑے ہو کر اس کا اقرار کریں اور اکثر نے کیا بھی تھا مگر میرے پاس شکائتیں پہنچتی رہتی ہیں کہ بعض احمدی نہ صرف یہ کہ خود حصہ نہیں دیتے بلکہ دوسروں سے لڑتے ہیں کہ تم بھی کیوں دیتے ہو۔مسلمانوں نے جب عورتوں سے یہ سلوک شروع کیا تو خدا تعالیٰ نے اُن کو عورتیں بنا دیا۔انہیں ماتحت کر دیا اور دوسروں کو ان پر حاکم کر دیا انہوں نے عورتوں کو ان کے حق سے محروم کیا تو خدا تعالیٰ نے ان سے حکومت چھین کر انگریزوں کو دے دی۔انہوں نے عورتوں کو نیچے گرایا اور خدا تعالیٰ نے ان کو گرا دیا۔لیکن اگر تم آج عورتوں کو ان کے حقوق دینے لگ جاؤ اور مظلوموں کے حق قائم کرو تو خدا تعالیٰ کے فرشتے آسمان سے اتریں گے اور تمہیں اُٹھا کر اوپر لے جائیں گے۔پس عورتوں کے حقوق ان کو ادا کرو اور ان کے حصے ان کو دو مگر اس طرح نہیں جس طرح کا ایک واقعہ میں نے پہلے بھی کئی بار سنایا ہے ایک احمدی تھے ان کی دو بیویاں تھیں۔قادیان سے ایک دوست ان کے پاس گئے تو ان کو معلوم ہوا کہ وہ اپنی بیویوں کو مارتے ہیں۔انہوں نے نصیحت کی کہ یہ ٹھیک نہیں۔اُس نے کہا کہ میں نے اپنا یہ اصول بنا رکھا ہے کہ جب ایک غلطی کرے تو اُسے تو اُس کی غلطی کی وجہ سے مارتا ہوں اور دوسری کو ساتھ اِس لئے مارتا ہوں کہ وہ اس پر ہنسے نہیں۔جو دوست قادیان سے گئے تھے انہوں نے بہت سمجھایا کہ یہ اسلام کی تعلیم کے خلاف بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اسے سخت ناپسند فرماتے ہیں۔اُس نے سن کر کہا کہ اچھا