انوارالعلوم (جلد 16) — Page 283
بعض اہم اور ضروری امور انوار العلوم جلد ۱۶ ہی کر سکتا ہے۔فرض کرو کوئی شخص قومی نقطہ نگاہ سے کسی غریب کی مدد کرتا ہے تو بھی یہی سمجھ کر کرتا ہے کہ اگر کسی وقت مجھے پر یا میرے خاندان پر زوال آیا تو اسی طرح دوسرے لوگ میری یا میرے خاندان کی مدد کریں گے۔تو تمام ترقیات غیب پر مبنی ہیں کیونکہ بڑے کاموں کے نتائج فوراً نہیں نکلتے اور ایسے کام جن کے نتائج نظر نہ آئیں حوصلہ والے لوگ ہی کر سکتے ہیں۔قربانی کا مادہ بھی ایمان بالغیب ہی انسان کے اندر پیدا کر سکتا ہے۔گویا قرآن کریم نے ابتداء میں ہی ایک بڑی بات اپنے ماننے والوں میں پیدا کر دی۔چنانچہ وہ صحابہ جو بدر اور اُحد کی لڑائیوں میں لڑے کیا وہ کسی ایسے نتیجہ کے لئے لڑے تھے جو سامنے نظر آرہا تھا؟ نہیں بلکہ ان کے دلوں میں ایمان بالغیب تھا۔بدر کی لڑائی کے موقع پر مکہ کے بعض امراء نے صلح کی کوشش کی مگر بعض ایسے لوگوں نے جنہیں نقصان پہنچا ہوا تھا شور مچا دیا کہ ہر گز صلح نہیں ہونی چاہئے۔آخر ایک شخص نے کہا کہ کسی آدمی کو بھیجا جائے جو مسلمانوں کی طاقت کا اندازہ کر کے آئے۔چنانچہ ایک آدمی بھیجا گیا اور اُس نے آ کر کہا کہ اے میری قوم! میرا مشورہ یہی ہے کہ ان لوگوں سے لڑائی نہ کرو۔انہوں نے کہا تم بتاؤ تو سہی کہ ان کی تعداد کتنی ہے اور سامان وغیرہ کیسا ہے؟ اُس نے کہا کہ میرا اندازہ ہے کہ مسلمانوں کی تعداد ۳۱۰ اور ۳۳۰ کے درمیان ہے اور کوئی خاص سامان بھی نہیں۔لوگوں نے پوچھا کہ پھر جب یہ حالت ہے تو تم یہ مشورہ کیوں دیتے ہو کہ ان سے لڑائی نہ کی جائے جب ان کی تعداد بھی ہم سے بہت کم ہے اور سامان بھی ان کے پاس بہت کم ہے۔اُس نے کہا کہ بات یہ ہے کہ میں نے اونٹوں اور گھوڑوں پر آدمی نہیں بلکہ موتیں سوار دیکھی ہیں میں نے جو چہرہ بھی دیکھا میں نے معلوم کیا کہ وہ تہیہ کئے ہوئے ہے کہ خود بھی مر جائے گا اور تم کو بھی مار دے گا۔کلے چنانچہ اس کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ ابو جہل میدان میں کھڑا تھا اور عکرمہ اور خالد بن ولید جیسے بہادر نوجوان اُس کے گرد پہرہ دے رہے تھے۔حضرت عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو دونوں طرف پندرہ پندرہ سال کے بچے کھڑے تھے میں نے خیال کیا کہ میں آج کیا جنگ کر سکوں گا جبکہ میرے دونوں طرف چھوٹے چھوٹے بچے ہیں لیکن ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ ایک لڑکے نے آہستہ سے مجھے کہنی ماری اور پوچھا چا! وہ ابوجہل کون ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ دیا کرتا ہے میں نے خدا سے عہد کیا ہے کہ آج اُسے ماروں گا۔ابھی وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ دوسرے لڑکے نے بھی اسی طرح آہستہ سے کہنی ماری اور مجھ سے یہی سوال کیا۔میں اس بات سے حیران تو ہوا مگر انگلی کے اشارہ سے بتایا