انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 282

بعض اہم اور ضروری امور انوار العلوم جلد ۱۶ ہو تو الٹا نقصان کرتی ہے اور قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ غذا ایسی ہے جو مؤمن کے معدہ میں ہی ٹھہر سکتی ہے۔پس اگر یہ سچ ہے کہ ہم نے قرآن کریم سے فائدہ اُٹھانا ہے اور اس سے فائدہ اُٹھائے بغیر ہم کوئی ترقی نہیں کر سکتے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے کہ۔كُلُّ بَرَكَةٍ مِنْ مُّحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ ها یعنی تمام برکت محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے ہے پس بڑا ہی مبارک ہے وہ جس نے سکھایا اور بڑا ہی مبارک ہے وہ جس نے سیکھا۔اس میں محمدؐ سے مراد دراصل قرآن کریم ہی ہے کیونکہ آپ ہی قرآن کریم کے الفاظ لائے ہیں۔پس جماعت کا تقویٰ پر قائم ہونا بے حد ضروری ہے۔اس زمانہ میں مؤمن اگر ترقی کر سکتے ہیں تو قرآن کریم پر چل کر ہی۔اور اگر یہ غذا ہضم نہ ہو سکے تو پھر کیا فائدہ۔اور اگر اسے ہضم کرنے چاہتے ہو تو متقی بنو۔ابتدائی تقویٰ جس سے قرآن کریم کی غذا ہضم ہوسکتی ہے وہ کیا ہے؟ وہ ایمان کی درستی ہے۔تقوی کے لئے پہلی ضروری چیز ایمان کی درستی ہی ہے۔قرآن کریم نے مؤمن کی علامت یہ بتائی ہے کہ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ ! ہر شخص کے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ میں متقی کیسے بنوں؟ پس اس کی پہلی علامت ایمان بالغیب ہے یعنی اللہ تعالی ، ملائکہ، قیامت اور رسولوں پر ایمان لانا پھر اس ایمان کے نیک نتائج پر ایمان لانا بھی ایمان بالغیب ہی ہے۔اللہ تعالیٰ ، ملائکہ، قیامت اور رسالت نظر نہیں آتی اس لئے اس کے دلائل قرآن کریم نے مہیا کئے ہیں اور وہ دلائل ایسے ہیں کہ انسان کے لئے ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔مگر کئی لوگ ہیں جو غور نہیں کرتے آجکل ایمان بالغیب پر لوگ تمسخر اڑاتے ہیں۔جو لوگ خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں بعض لوگ ان کا تمسخر اُڑاتے ہیں تو کہتے ہیں تم تعلیم یافتہ ہو کر خدا کو مانتے ہو۔پھر قیامت اور مرنے کے بعد اعمال کی جزا و سزا پر بھی لوگ تمسخر اُڑاتے ہیں۔ملائکہ بھی اللہ کا پیغام اور دین لانے والے ہیں اور یہ سب ابتدائی صداقتیں ہیں مگر لوگ ان سب باتوں کا تمسخر اڑاتے ہیں۔یہ سارا ایک ہی سلسلہ ہے اور جس نے اس کی ایک کڑی کو بھی چھوڑ دیا وہ ایمان سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔نیک نتائج پر ایمان لانا بھی ایمان بالغیب میں شامل ہے اور یہی تو کل کا مقام ہے۔ایک شخص اگر دس سیر آنا کسی غریب کو دیتا ہے اور یہ امید رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا اجر ملے گا تو وہ گویا غیب پر ایمان لاتا ہے۔وہ کسی حاضر نتیجہ کے لئے یہ کام نہیں کرتا بلکہ غیب پر ایمان لانے کی وجہ سے ہی ایسا کرتا ہے۔بلکہ جو شخص خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا وہ بھی اگر ایسی کوئی نیکی کرتا ہے تو غیب پر ایمان کی وجہ سے