انوارالعلوم (جلد 16) — Page 249
بعض اہم اور ضروری امور انوار العلوم جلد ۱۶ وقت صرف انیس برس تھی۔میں سیدھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لاش کے سرہانے پہنچا اور وہاں کھڑے ہو کر خدا تعالیٰ سے اقرار کیا کہ اگر ساری جماعت بھی احمدیت کو چھوڑ جائے تو بھی میں اکیلا دنیا میں اس کی اشاعت کروں گا اور اس کام کو کبھی نہ چھوڑوں گا۔پس مجھے انسانوں کی کوئی پرواہ نہیں جب میں خلیفہ ہوا اور یہ لوگ قادیان کو چھوڑ کر چلے گئے اُس وقت خزانہ میں صرف اٹھارہ روپے تھے اور یہ حالت تھی کہ اشتہار تک چھاپنے کے لئے پیسے نہ تھے۔اللہ تعالیٰ مغفرت کرے حضرت میر ناصر نواب صاحب کی انہوں نے دار الضعفاء کے لئے چندہ جمع کیا ہوا تھا ، جب انہیں معلوم ہوا کہ خزانہ خالی ہے اور اشتہارات چھاپنے کے لئے بھی پیسے نہیں ہیں تو وہ پانسور و پیہ لے کر میرے پاس آئے اور کہا کہ یہ بطور قرض لے لیں اور کام شروع کریں۔جب خدا تعالیٰ بھیجے گا تو واپس کر دیں تو یہ حالت تھی جب یہ لوگ چھوڑ کر گئے ہیں مگر آج خدا تعالیٰ کے فضل سے وہی حالت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک شعر میں اپنی بیان کی ہے فرمایا: - الْمَوَائِدِ كَانَ لُفَاظَاتُ وَصِرْتُ أكُلِي الْيَوْمَ مِطْعَامَ الْاهَالِي ٣ یعنی ایک زمانہ تھا کہ میں دستر خوان کے بچے ہوئے ٹکڑوں پر گزارہ کرتا تھا مگر آج خدا تعالیٰ خاندانوں کے خاندان میرے ذریعہ پال رہا ہے۔یہی حالت آج خدا کے فضل سے ہماری ہے۔ایک زمانہ تھا کہ ہمارے پاس اشتہار کے لئے بھی پیسے نہ تھے خزانہ میں صرف ۱۸ روپے تھے اور ہزاروں روپیہ کا قرض تھا۔مگر آج سینکڑوں خاندانوں کی پرورش اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ہر موقع پر اللہ تعالیٰ نے میری مدد فرمائی ہے اور وہ لوگ مجھے دیئے اور ایسے ایسے لوگ میری بیعت میں داخل کئے کہ اس زمانہ میں اس کی مثال اور کہیں پائی نہیں جاتی۔پھر میں کس طرح سمجھ سکتا ہوں کہ میری جماعت کے لوگوں کا مولوی محمد علی صاحب کی تقریر سننا میرے لئے خطرہ کا موجب ہوگا۔مجھے کوئی ایسی مثال معلوم نہیں کہ کسی کے آباء اس کی بیعت میں شامل ہوئے ہوں مگر میری والدہ ، نانا، بڑے بھائی، ماموں سب نے میری بیعت کی ہے۔پھر اُستادوں نے کی ، میرے وہ اُستاد جن سے میں قرآن کریم ، حدیث ، انگریزی، عربی پڑھتا رہا ہوں وہ میری بیعت میں شامل ہوئے اور یہ کسی انسان کا کام نہیں مجھ میں یہ ہمت کہاں تھی کہ میں ان سب کو اپنا مرید کر سکتا اور میں یہ کب حجرات کر سکتا تھا کہ دنیا کے سامنے کھڑا ہوں جب کہ نہ میری کوئی تعلیم تھی اور نہ لیاقت۔جب میں پڑھتا تھا تو استاد اور