انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 248

انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور گے کیونکہ بہت سے دیہات سے بھی آجاتے ہیں، عورتیں ان سے علاوہ ہیں۔گل عورت مرد ملا کر تیس ہزار کے قریب مجمع ہوگا۔کیا ان میں سے کوئی ایک بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے ظاہر میں یا باطن میں کھلے لفظوں یا اشارہ میں اسے پیغامیوں کا لٹریچر پڑھنے سے روکا ہو؟ ( ہر طرف سے آوازیں آئیں کہ ہر گز نہیں ) یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے جو مولوی محمد علی صاحب نے بولا ہے اور یہ ایسی بات ہے جس کے غلط ہونے کا ہر ایک شخص کو پتہ ہے۔میری تقریریں اور خطبے سب شائع ہوتے ہیں کیا ان میں سے کوئی ایسا فقرہ پیش کیا جا سکتا ہے جس میں میں نے پیغامیوں کا لٹریچر نہ پڑھنے کی ہدایت کی ہو۔میں تو اپنے بیوی بچوں تک کو بائیل وغیرہ دوسرے مذاہب کی کتب پڑھنے کے لئے دیتا ہوں پھر میں ان کا لٹریچر پڑھنے سے کیسے روک سکتا ہوں۔مخالف کا لٹریچر پڑھنے سے جبکہ ایسا کرنے میں کوئی لغو یا فضول بات نہ ہو تو وہی روک سکتا ہے جو دوسرے کے دلائل سے خائف ہو۔اور جو مذہب دوسرے کے دلائل سے ڈرتا ہو وہ کیسا مذ ہب ہے اور وہ کس طرح سچا ہو سکتا ہے؟ ہم تو خدا تعالیٰ کے فضل سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگرد ہیں اور کونے کا ایسا پتھر ہیں کہ جو ہم پر گرے وہ بھی چکنا چور ہو جائے گا اور جس پر ہم گریں گے وہ بھی چکنا چور ہو جائے گا۔میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں وہ طاقت دی ہے کہ جو ہمیں اپنی باتیں سنانے آئے گا وہ بھی ہمارا شکار ہو جائے گا اور جسے ہم اپنی سنائیں گے وہ بھی ہمارا شکار ہو گا۔پس یہ الزام بالکل غلط ہے کہ پیغامیوں کا لٹریچر پڑھنے سے کسی کو روکا ہو میں نے کبھی کسی کو نہیں روکا اور اب پھر اس اعلان کو دُہراتا ہوں کہ ہر شخص آزاد ہے جو کوئی ان کا لٹریچر پڑھنا چاہے بے شک پڑھے بلکہ اگر اسے صداقت نظر آئے تو اسے قبول کرے اور اس صورت میں اس کا فرض ہے کہ قبول کرے۔سچائی ہی ہے جو انسان کی نجات کا موجب ہوسکتی ہے۔قیامت کے دن میں کسی کے کام نہ آسکوں گا۔اگر دین کے معاملہ میں کوئی شخص میری خاطر صداقت کو چھوڑتا ہے تو سخت غلطی کرتا ہے۔پس میں یہ کہہ کر بری ہوتا ہوں کہ جسے جہاں صداقت نظر آئے اسے قبول کرے اور اگر سب لوگ بھی مجھ سے الگ ہو جائیں تو مجھے اس کی پرواہ نہیں۔اگر جو میں کہتا ہوں وہ سچ نہیں تو چاہے مجھ سے اختلاف کرنا پڑے سب کا فرض ہے کہ سچ کو قبول کریں اور یہ کہہ کر میں خدا تعالیٰ کے حضور بُری ہوتا ہوں۔مجھے انسانوں کی کوئی پرواہ نہیں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے وفات پائی تو کسی نے کہا کہ پیشگوئی غلط نکلی۔میرے کان میں یہ بات پڑی میری عمر اس