انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 228

انوار العلوم جلد ۱۶ مستورات سے خطا زبان اس سے حلاوت محسوس کرے۔یہ چیز بھی ایسی ہے جس کا مؤمن میں پایا جانا ضروری ہے۔فرض کرو ایک عورت نمازیں بھی پڑھتی ہے، روزے بھی رکھتی ہے مگر اس کے ساتھ ہی صبح شام غیبت میں مشغول رہتی اور ادھر اُدھر کی باتیں کرتی رہتی ہے کہ فلاں نے یوں کیا اور فلاں نے یوں کیا تو اس سے اُس کی نیکی کا اثر زائل ہو جائے گا۔یہ باتیں ایسی ہی گندی ہیں جیسے بعض عورتیں مٹی کھانے لگ جاتی ہیں بے شک یہ باتیں ہیں مگر ایسی جن کی کوئی قیمت نہیں۔نہ سننے والے کو کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ سنانے والے کو۔لیکن اگر وہ اس قسم کی باتیں کرے کہ اے بہن! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا ہے۔اے بہن! خدا کا یہ حکم ہے ، نماز کے متعلق یہ حکم ہے ، روزوں کے یہ احکام ہیں تو سننے والے اس کا اثر محسوس کریں گے اور انہیں اس کی باتوں میں لذت آئے گی۔پس پہلی بات تو یہ ہے کہ دین پر عمل کرو۔دوسری بات یہ ہے کہ اتنا اچھا عمل کرو کہ لوگوں میں شہرت ہو جائے۔تیسرا یہ کہ ایسی باتیں کرو جن سے لوگ فائدہ اٹھائیں۔پھر طیبہ کے چوتھے معنے شیریں کے ہیں یعنی تمہاری باتیں ایسی ہوں جو نہ صرف لوگوں کو فائدہ بخشیں بلکہ علمی بھی ہوں اور صرف دماغ سے تعلق نہ رکھتی ہوں بلکہ ایسی شہر میں باتیں ہوں جو دل سے تعلق رکھیں اور جن سے حلاوتِ ایمان نصیب ہو۔عقلی باتوں سے لذت تو آتی ہے لیکن حلاوت نصیب نہیں ہوتی۔شاعر کتنے اچھے شعر کہتے ہیں لیکن وہ میٹھے نہیں ہوتے۔پھر ایک شخص خدا کی باتیں سناتا ہے اور نہایت فصیح و بلیغ طریق پر الفاظ لاتا ہے اُس کی باتیں بھی لذیذ ہوتی ہیں لیکن شیریں نہیں ہوتیں۔اس کے مقابلہ میں ایک اور شخص ہوتا ہے جو ایسی باتیں کرتا ہے جن میں گولفاظی نہیں ہوتی مگر ان باتوں سے دلوں پر اثر ہوتا اور تقویٰ پیدا ہوتا ہے اس کی باتیں شیریں کہلائیں گی کیونکہ وہ دلوں پر اثر کرنے والی ہوں گی۔یہ چار باتیں ہیں جن کا مؤمن کے اندر پایا جانا ضروری ہے۔اگر تم ایسی بن جاؤ تو تم جنت کی وارث بن سکتی ہو۔جنت کیا ہے؟ جنت کے درخت مؤمن ہیں اور جنت کی نہریں مؤمنوں کے اعمال۔جب یہ سارے وہاں اکٹھے ہو جائیں گے تو سب لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیں گے۔اس دنیا اور اگلے جہاں میں یہ فرق ہے کہ یہاں مؤمن چھپے ہوئے ہیں مگر اگلے جہان میں ان سب کو اکٹھا کر دیا جائے گا تب دنیا حیران رہ جائے گی کہ واہ واہ کیسے شاندار لوگ ہیں۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب ، حضرت خواجہ باقی باللہ صاحب ، حضرت خواجہ قطب الدین صاحب،