انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 202

انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔کو کسی قدر غیب کی خبریں دیتا ہے گو آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کئے ہوئے معنوں سے گلی طور پر اختلاف کرتے ہیں اور اس پر بس نہیں بلکہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معنوں کے خلاف معنے کرنے کے بعد بھی یہ تحریر فرماتے ہیں کہ سیاق کو مدنظر رکھتے ہوئے اور کوئی معنے آیت کے درست نہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ بعد میں آپ کے دل میں کچھ خشیت پیدا ہوئی اور احمد یہ جماعت کے اعتراض کا ڈر بھی پیدا ہوا اور آخر میں لکھ دیا کہ اگر اِظْهَارِ عَلَى الْغَيْبِ سے کثرت انکشاف مراد لے لیا جائے تو لفظ رسول میں رسول کے کامل متبعین بھی داخل ہو سکتے ہیں جن کو باتباع رسول اس نعمت سے کچھ حصہ ملتا ہے مگر نہ اس قدر جیسا کہ متبوع کو۔اس صورت میں بھی یہ آیت تو صرف رسولوں کے متعلق ہوگی لیکن ضمنی طور پر اس میں رسولوں کے کامل متبعین بھی داخل ہو جائیں گے۔،،۱۰۵ مگر آپ یہ بھول گئے کہ اول تو یہ تو جیہ باطل ہے کیونکہ جو معنے درست ہی نہیں وہ آیت میں سے نکل کیونکر آئیں گے۔دوسرے یہ کہ اس آیت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخصوص ذکر نہیں بلکہ سب رسولوں کا ذکر ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:- اور خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اُس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔لیکن پھر بھی جولوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے۔“ اسی طرح فرماتے ہیں:- اس جگہ اکثر گزشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ منجزات اور پیشگوئیاں موجود ہیں بلکہ بعض گزشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور پیشگوئیوں کو ان 10766 معجزات اور پیشگوئیوں سے کچھ نسبت ہی نہیں ،،۱۰۶ اب مولوی صاحب فرمائیں کہ ان حوالہ جات کی موجودگی میں ہم ان کے اس گریز کی کیا حقیقت سمجھیں جو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معنوں کو قطعی طور پر غلط قرار دینے کے بعد کی ہے۔کیا اس تفسیر کو ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شاخ کی تفسیر اور آپ کا کام کہہ سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔