انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 193

انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔میں پہلے تو ان کے اس دعوی کو لیتا ہوں کہ انہوں نے بیسیوں دفعہ اس حوالہ کو پیش کیا ہے مگر میں اس کا جواب نہیں دیتا۔مجھے افسوس ہے کہ اس اعتراض میں انہوں نے تقویٰ سے کام نہیں لیا۔حقیقت یہ ہے کہ حقیقۃ النبوۃ میں جہاں میں نے ان کے پیش کردہ ان حوالوں پر بحث کی ہے جوا ۱۹۰ ء کے بعد کے ہیں وہاں سب سے پہلے ان کے اس حوالہ کو لیا ہے اور اس کا جواب دیا ہے۔پس مولوی صاحب کا یہ تو حق ہے کہ کہیں کہ وہ جواب درست نہیں۔یہ حق نہیں کہ وہ یہ کہیں کہ ان کے اس حوالہ کا میں نے کبھی جواب نہیں دیا۔انہیں اپنا یہ قول تو بھلا نا نہیں چاہئے کہ :- ایمانداری کا تقاضا یہ ہے کہ جو جواب ہو وہ تو ذکر کر دیا جائے پھر اس کے اوپر بے شک لکھیں کہ یہ جواب صحیح نہیں۔۹۱ اصل بات یہ ہے کہ جناب مولوی صاحب نے اس حوالہ کو نقل کرتے ہوئے بھی اسی غلطی کا ارتکاب کیا ہے جس کے وہ عادی ہو چکے ہیں۔یعنی اُس حصہ کو ترک کر دیا ہے جو ان کے خلاف پڑتا تھا سارا حوالہ یہ ہے۔" إِنَّا مُسْلِمُونَ نُؤْمِنُ بِكِتَابِ اللهِ الْفُرْقَانِ وَ نُؤْمِنُ بِأَنَّ سَيِّدَنَا مُحَمَّدًا نَبِيَّةَ وَ رَسُوْلُهُ وَ انَّهُ جَاءَ بِخَيْرِ الْادْيَانِ وَ نُؤْمِنُ بأَنَّهُ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ إِلَّا الَّذِى رُبِّيَ مِنْ فَيُضِهِ وَ أَظْهَرَهُ وَعْدُهُ - وَ لِلَّهِ مُكَالَمَاتُ وَ مُخَاطَبَاتُ مَعَ أَوْلِيَائِهِ فِي هذِهِ الْأُمَّةِ وَ إِنَّهُمْ يُعْطَوْنَ صِبْغَةَ الْانْبِيَاءِ وَ لَيْسُوا نَبِيِّينَ فِي الْحَقِيقَةِ ، اس کا ترجمہ یہ ہے۔”ہم مسلمان ہیں اور اللہ تعالیٰ کی کتاب پر ایمان لاتے ہیں۔اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارے سردار محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور آپ سب سے اچھا دین لائے ہیں۔اور ہم یہ بھی ایمان رکھتے ہیں کہ آپ خاتم النبین ہیں۔آپ کے بعد کوئی نبی نہیں سوائے اس کے جو آپ کے فیض سے تربیت یافتہ ہو اور آپ کے وعدہ کے مطابق ظاہر ہوا ہو۔نیز اللہ تعالیٰ اس اُمت کے اولیاء سے مکالمات و مخاطبات فرماتا ہے اور وہ نبیوں کا رنگ دیئے جاتے ہیں لیکن وہ فی الحقیقت نبی نہیں ہوتے۔“ کیا اس پورے حوالے کے بعد مجھے کسی جواب کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس جگہ امت کے دو قسم کے لوگوں کا ذکر فرماتے ہیں۔ایک تو وہ شخص ہے جو آنحضرت صلی اللہ