انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 192

اللہ تعالیٰ ، خاتم النبین اور امام وقت۔۔۔انوار العلوم جلد ۱۶ اور آپ کے نزدیک آپ کا دعویٰ محدثیت کا تھا۔پس اس فقرہ کو دوسرے الفاظ میں آپ کے عقیدہ کے رو سے یوں بھی لکھا جا سکتا ہے۔محدث کے لئے شارع ہونا شرط نہیں ، یعنی ضروری نہیں کہ ہر محدث شارع ہو۔بعض محدث بغیر نبی ہونے کے شارع ہو سکتے ہیں لیکن بعض محدث ایسے بھی ہوتے ہیں جو شارع نہیں ہوتے کیا آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ بعض غیر نبی بھی شارع گزرے ہیں ؟ اگر آپ کا یہ عقیدہ نہیں تو اس جگہ نبی کی جگہ پر محدث کا لفظ کس طرح رکھا جائے؟ پھر آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعوی ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم وو۔،، سے کیا گیا۔‘، ۵۷ اور پھر اس پر اعتراض کیا ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ جھوٹ نہیں لکھا تو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ کا الزام آتا ہے مگر یہ استدلال بھی آپ کا غلط ہے کیونکہ محدثیت کے دعوی کی نسبت آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے اور یہ بالکل سچ ہے کہ جس دعوی کو آپ محدثیت قرار دیتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے ہی حکم سے کیا گیا تھا اس میں جھوٹ کا کیا ذکر ہے؟ یہ تو آپ نے نہیں فرمایا کہ محد ثیت کی تعریف آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کی ہے۔پھر یہ بھی یاد رہے کہ ہر نبی محدث بھی ہوتا ہے۔۸۸ اس کے بعد جناب مولوی صاحب مواہب الرحمن مواہب الرحمن کا حوالہ کہ اللہ تعالی اولیاء کا ایک حوالہ پیش فرماتے ہیں اور اس سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر ۱۹۰۱ ء سے کلام کرتا اور اُن کو نبیوں کا رنگ دیتا ہے میں اللہ تعالی نے حضرت سیح موعود علیہ السلام کو یہ بتایا تھا کہ آپ نبی ہیں محدث نہیں تو پھر ۱۹۰۳ء میں آپ نے کیوں لکھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کے ساتھ مکالمہ مخاطبہ کرتا ہے اور اُن کو نبیوں کا رنگ دیا جاتا ہے اور وہ درحقیقت نبی نہیں ہوتے۔پھر بڑے زور سے اعتراض فرماتے ہیں کہ :- میاں صاحب کے سامنے یہ تحریر حضرت صاحب کی بیسیوں دفعہ پیش کی گئی مگر اس کا جواب وہ کبھی نہیں دیتے اور دیں کس طرح ، اس کا جواب کوئی ہے ہی نہیں۔اسی لئے وہ مباحثہ کے میدان میں نکلنے سے گریز 1966 کرتے ہیں۔۵۹۰۰۔“