انوارالعلوم (جلد 16) — Page xi
۹ انوار العلوم جلد ۱۶ دو تعارف کن پس دُنیا کے مقبروں پر اپنا روپیہ ضائع مت کرو بلکہ اپنی قبریں بہشتی مقبرہ میں بناؤ اور یا پھر اس بہشتی مقبرہ میں بناؤ جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہیں۔جہاں نوح بھی ہیں، جہاں ابراہیم بھی ہیں، جہاں موسیٰ بھی ہیں۔جہاں عیسی بھی ہیں اور جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی ہیں۔اسی طرح تمہارے آباؤ اجداد بھی وہیں ہیں۔پس کوشش کرو کہ وہاں تمہیں اچھے مقبرے نصیب ہوں اور تمہیں اُس کے رسولوں کا قرب حاصل ہو۔“ حضور نے دُنیاوی اور جسمانی مینا بازاروں کا قرآن کریم میں مذکورہ روحانی مینا بازاروں سے موازنہ کرتے ہوئے روحانی بازاروں میں ملنے والی نعماء کا مفصل ذکر فرمایا ہے۔مثلاً دائی خدمت کرنے والے غلام، اعلیٰ درجہ کی سواریاں ، ٹھنڈے مشروب، شیریں چشمے، دودھ کی نہریں، پاکیزہ شراب، شہد کی نہریں، پھل، گوشت، لباس اور دیگر زینت کے سامان وغیرہ سے جنتی لوگ ہمیشہ متمتع ہوں گے۔روحانی مینا بازار کی فضیلت اور فوقیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ:- یہ عجیب مینا بازار ہے ہمارے خدا کا کہ اس میں مجھ سے جان اور مال طلب کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کے بدلہ میں سارے مینا بازار کی چیزیں اور خود مینا بازار کی عمارت تمہارے سپرد کی جاتی ہے۔جب اس سے کہا جاتا ہے کہ لاؤ اپنا مال اور لاؤ اپنی جان کہ میں مینا بازار کی سب چیزیں اور خود مینا بازار کی عمارت تمہارے سپر د کروں تو بندہ اِدھر اُدھر حیران ہو کر دیکھتا ہے کہ میرے پاس تو نہ مال ہے نہ جان، میں کہاں سے یہ دونوں چیز میں لاؤں۔اتنے میں چُپ چاپ اللہ تعالیٰ خود ہی ایک جان اور کچھ مال اُس کے لئے مہیا کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ لو میں تمہیں جان اور مال دے رہا ہوں تم یہ مال اور جان میرے پاس فروخت کر دو۔غالب تھا تو شرابی مگر اُس کا یہ شعر کروڑوں روپیہ سے بھی زیادہ قیمتی ہے کہ:۔جان دی دی ہوئی اُسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا