انوارالعلوم (جلد 15) — Page 61
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی پس حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں یہ دروازہ لوگوں پر کھول دیا گیا اور صفات الہیہ کے متعلق آپ کو وسیع علم دیا گیا۔چنانچہ جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کا گہرا مطالعہ کیا ہے وہ سمجھ سکتے ہیں کہ جس قدر موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ سے صفات الہیہ بیان ہوئی ہیں قریباً اتنی ہی صفات قرآن کریم نے بیان کی ہیں۔میں نے ایک دفعہ غور کیا تو مجھے کم از کم اس وقت کوئی ایسی نئی صفت نظر نہیں آئی تھی جو قرآن کریم نے بیان کی ہو مگر تو رات نے بیان نہ کی ہو۔وہی رب، رحمن ، رحیم اور ملت يزيد الدين وغیرہ صفات جو اسلام نے بیان کی ہیں وہی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بیان کی تھیں۔غرض موسوی دور میں انسانی دماغ اس قابل ہو گیا تھا کہ وہ صفات الہیہ کے جو اعلی ڈیپارٹمنٹ ہیں اُن کو سمجھ سکے۔گویا صفات الہیہ کا اجمالی علم تفصیل کی صورت میں تبدیل ہو گیا اور بندوں اور خدا میں اور بندوں اور بندوں میں تعلقات کی بہترین صورت پیدا ہوگئی۔یہی وجہ ہے کہ موسی وہ پہلے نبی ہیں جن کے بعد ایک لمبا سلسلہ نبیوں کا ایسا آیا جو گلی طور پر آپ کی شریعت کے تابع تھے ، گو نبوت اُن کو براہ راست ملی تھی۔گویا جب انسان نے خدائی صفات کے ڈیپارٹمنٹ کو سمجھنے کی کوشش کی تو خدا تعالیٰ نے کہا۔اب تم بھی اپنے ڈیپارٹمنٹ بنا لو کہ اب تم سے آئندہ ایک ظاہری حکومت چلے گی اور خلفاء آئیں گے جو حکومت کریں گے۔پس حضرت موسیٰ علیہ السلام پہلے نبی تھے جن کے بعد ماً مورخلفاء لائے گئے اور آپ سے نبیوں کا ایک لمبا سلسلہ چلایا گیا جنہیں گو نبوت براہِ راست ملتی تھی مگر موسوی شریعت کے وہ تابع ہوتے تھے۔اب اس وقت مذہب ایک با قاعدہ فلسفہ بن گیا جو انسانی زندگی کے سب شعبوں پر روشنی ڈالتا تھا۔گویا شریعت کا محل بن کر چاروں طرف سے محفوظ ہو گیا۔یہی فلسفہ کا کمال تھا کہ ابراہیم نے جب صفات الہیہ کا باب پڑھا تو کہا رت ادري كيف تُخيِ الموتى ندا یا ! احیائے موتی کی صفت کا جلوہ مجھے دکھا۔مگر موسیٰ چونکہ ابراہیم سے بہت زیادہ صفات الہیہ کا علم رکھتا تھا اس لئے اس نے کہا ت اري انظر اليك ۶ کہ خدایا! تیری تمام صفات کا مجھے علم ہو چکا ہے اب یہی خواہش ہے کہ تو مجھے اپنا سارا وجود دکھا دے۔گویا ایک نے صرف ایک صفت کا جلوہ مانگا مگر دوسرے نے خود خدا کا دیدار کرنا چاہا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ کہتے ہیں رب آري كيف تُخيِ الموتى اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں ربّ ارني انظر اليك ، وہ کہتے ہیں مجھے صفتِ احیاء کا نمونہ دکھا اور یہ کہتے ہیں کہ مجھے اپنا سب کچھ دکھا۔دُنیا کا یہ عام قاعدہ ہے کہ جب کوئی نبی آتا ہے تو لوگ اُسے تو جھوٹا سمجھتے ہیں مگر اس سے ط