انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 60

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی قي ٤٤ کہ ہم نے موسیٰ کے لئے الواح میں جو کچھ لکھا اس میں ہر قسم کی نصیحتیں تھیں اور ہر بات کے متعلق اس میں تفصیلی ہدایات درج تھیں۔گویا تو رات وہ پہلی الہی کتاب تھی جس میں بنی نوع انسان کے لئے تفصیلی ہدایات دی گئیں اور انسان کو تمدن میں اتنا اعلیٰ سمجھ لیا گیا کہ اب اس سے یہ امید کی جانے لگی کہ وہ دوسروں کے فائدہ کے لئے اپنی بار یک در بار یک آزادیاں قربان کرنے کے لئے بھی تیار رہے اور انسانی اعمال کے ہر شعبہ کے متعلق ہدایات دی گئیں۔مثلاً عورت حائضہ ہو تو اس کے لئے یہ ہدایت ہے ، انسان جنبی ہو تو اس کے لئے یہ ہدایت ہے، بیمار ہو تو اس کیلئے یہ ہدایت ہے ، عبادت خانوں کے متعلق یہ ہدایت ہے غرض تفصیلا تعُيّ شیہ کے مطابق موسیٰ کے ذریعہ سے ہر بات کے متعلق تفصیلی ہدایات دی گئیں۔دوسرا انقلاب صفات الہیہ کی تفصیلات دوسرا انقلاب جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ سے ہوا یہ تھا کہ صفات الہیہ کی تفصیلات ظاہر کی گئیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں گو انسانی دماغ ترقی کر چکا تھا اور بعض صفات الہیہ کی باریکیاں ظاہر ہو چکی تھیں مگر صفات الہیہ کے بار یک با ہمی تعلقات اور صفات الہیہ کا وسیع دائرہ اس وقت تک دنیا نہ سمجھنے کی اہلیت رکھتی تھی اور نہ اُس کے سامنے وہ پیش کیا گیا تھا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں دنیا اس قابل ہوگئی تھی ، چنانچہ موسیٰ علیہ السلام پر صفات الہیہ کا وسیع اظہار کیا گیا جس کی وجہ سے نظام عالم کے سمجھنے کی قابلیت لوگوں میں پیدا ہو گئی۔گویا صفات کا اجمالی علم تفصیل کی صورت میں بدل کر بندوں اور خدا میں اور بندوں اور بندوں میں تعلقات پیدا کرنے کی ایک بہتر صورت نکل آئی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں صرف اللہ تعالیٰ کی احدیت تک دماغ نے ترقی کی تھی۔اس حد تک ترقی نہیں کی تھی کہ وہ یہ سمجھنے کے قابل ہوتا کہ صفات الہیہ موجودہ حکومتوں کے مختلف ڈیپارٹمنٹوں کی طرح الگ الگ ہیں۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ہم پہلے کہیں کہ ایک بادشاہ ہے جس کی اطاعت کرنی چاہئے اور دوسرے وقت ہم یہ کہیں کہ اس بادشاہ کے ماتحت کئی افسر ہیں اُن سب کی اطاعت کرنی چاہئے اور ان کی اطاعت بادشاہ کی اطاعت ہے۔پھر ہم یہ بتائیں کہ یہ فلاں ڈیپارٹمنٹ کا افسر ہے اور وہ فلاں ڈیپارٹمنٹ کا۔یہ ڈیپارٹمنٹ تعلیم سے تعلق رکھتا ہے، وہ تربیت سے تعلق رکھتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی بھی مختلف صفات ہیں اور ان صفات کے بھی مختلف ڈیپارٹمنٹ ہیں جن کو پورے طور پر سمجھنے کے بعد ہی انسان کو حقیقی دعا کرنی آتی ہے۔