انوارالعلوم (جلد 15) — Page 57
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی جاتی تھی۔جو مر گیا مر گیا جو زندہ رہا زندہ رہا۔مگر ابراہیم کے زمانہ میں آدم اور دوسری مخلوقات میں فرق کر دیا گیا۔ابھی تک انسان اور جانور میں کوئی نمایاں فرق نہ سمجھا جاتا تھا۔خیال کیا جاتا تھا کہ دونوں کھاتے پیتے ہیں، دونوں بچے پیدا کرتے ہیں ، دونوں چلتے پھرتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ انسان کی دماغی ترقی نمایاں ہے اس وجہ سے اُس وقت تک قربانی کے لئے بعض دفعہ انسان بھی پیش کر دیا جا تا تھا کیونکہ جانوروں اور انسان میں کوئی اتنا نمایاں فرق نہ سمجھا جاتا تھا۔صرف یہ احساس تھا کہ انسان زیادہ قیمتی ہے اور جانور کم قیمتی مگر ابراہیم کے زمانہ میں جب لوگوں نے تو حید کو سمجھ لیا تو خدا نے کہا اب اسکی قربانی نہیں ہو سکتی کیونکہ اب یہ حیوان نہیں بلکہ پورا انسان بن گیا ہے اور اسکی زندگی اپنی ذات میں ایک مقصود قرار پا گئی ہے۔پس اس مقام پر انسان کو پہنچانے کی وجہ سے ابراہیم ابوالانبیاء کہلایا جس طرح آدم ابوالبشر کہلایا۔غرض حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں یوم البعث کا صحیح مفہوم انسان کے اندر پیدا کر دیا گیا اور اسے بتایا گیا کہ انسانی زندگی قرب الہی کے حصول کا ذریعہ ہے اس لئے سوائے ایسی مجبوری کے کہ اسکی قربانی کے بغیر چارہ نہ ہو اس کی فضول قربانی خود اس مقصد کو تباہ کرنا ہے جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا۔گویا اب قربانی فلسفی اور عقلی ہوگئی ظاہری اور رسمی نہ رہی۔مثلاً لڑائیوں میں انسان قربان کر دیئے جائیں گے اور انہیں کہا جائے گا کہ جائیں اور مر جائیں اور اس موقع پر جب یہ سوال پیدا ہو گا کہ انسان کی قربانی جائز نہیں تو معا یہ جواب بھی مل جائے گا کہ ادفی اعلیٰ کے لئے قربان کر دیا جاتا ہے ، اعلیٰ ادنیٰ کے لئے قربان نہیں کیا جاتا۔گویا قربانی فلسفہ اور عقل کے ماتحت آ جائے گی۔اور بعض موقعوں پر اس قربانی کا پیش کرنا جائز بلکہ ضروری ہوگا اور بعض موقعوں پر نہیں۔پھر اس کے ساتھ ہی جب یہ خیال پیدا ہو گیا کہ انسان تمام مخلوق سے اعلیٰ ہے تو اسی خیال سے تصوف کا دور شروع ہو گیا اور انسان یہ سمجھنے لگا کہ میں اس لئے پیدا کیا گیا ہوں کہ اپنے خدا کی رضا حاصل کروں اور اس کا محبوب بنوں گو یا ابراہیم سے تصوف کا دور شروع ہوا۔گو اُس وقت صرف اس کی بنیاد پڑی اور ترقی بعد میں ہوئی۔اور یہ توجہ اس لئے پیدا ہوئی کہ جب فیصلہ کیا گیا کہ انسان قتل نہیں کیا جا سکتا اور اس کی بنیاد اس امر پر رکھی گئی کہ انسان اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ خدا کا محبوب بنے تو ہر عقلمند شخص اس فکر میں پڑ گیا کہ وہ محبوبیت الہی کے مقام کو حاصل کرنے کے لئے کس طرح کوشش کرے اور اس طرح تصوف کی بنیاد پڑ گئی۔