انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 56

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی کو اللہ تعالیٰ نے کہا اسلیم کہ میں تجھے صرف یہی نہیں کہتا کہ بُت کو سجدہ نہ کر بلکہ میں تجھے یہ بھی کہتا ہوں کہ تُو اپنے دل کے خیالات بھی گلی طور پر میری اطاعت میں لگا دے اور ابراہیم نے جواب میں کہا آسلمت لرب العلمین کہ اے خدا ! میرے جسم کا ذرہ ذرہ تیرے آگے قربان ہے میری عقل، میر اعلم ، میرا ذ ہن سب تیرے احکام کے تابع ہیں اور میری ساری طاقتیں اور ساری قوتیں تیری راہ میں لگی ہوئی ہیں اسی لئے اس کی نسبت کہا گیا دما حان مِن المُشرکین یہی وہ تو حید ہے جسے تو کل والی توحید کہتے ہیں۔اور درحقیقت تو حید وہی ہوتی ہے جو تو کل والی ہو، جب انسان یہ کہنے لگے کہ میرے کام سب ختم ہیں۔اب میرا کھانا، پینا، میرا اُٹھنا بیٹھنا، میرا سونا، میرا جا گنا، میرا مرنا، میرا جینا سب خدا کے لئے ہوگا۔چنانچہ دیکھ لو اس کا فرق آگے کس طرح ظاہر ہوا۔نوح کو جب طوفان کے موقع پر بچنے کی ضرورت پیش آئی تو اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا کہ تو ایک کشتی بنا جس پر بیٹھ کر تو اور تیرے ساتھی طوفان سے محفوظ رہیں اور خدا نے اسے کشتی بنا دی لیکن جب ابرا ہیم کو خدا نے کہا کہ جا اور اپنے بچے اسمعیل کو وادی غیر ذی زرع میں پھینک آ تو اس نے اسے کوئی ایسی ہدایت نہیں دی کہ ان کے کھانے اور پینے کے لئے اسے کیا انتظام کرنا چاہئے۔اس نے اسے بس اتنا حکم دے دیا کہ جا اور اپنی بیوی اور اپنے بچہ کو فلاں وادی میں چھوڑ آ۔چنانچہ وہ گیا اور ہاجرہ اور اسمعیل کو بے آب و گیاہ جنگل میں چھوڑ کر چلا گیا اور اس نے یقین کیا کہ جو خدا انہیں گھر پر رزق دیتا تھا وہی انہیں اس جگہ بھی رزق بہم پہنچائے گا غرض ابراہیم نوح کی نسبت تو کل کے زیادہ اعلیٰ مقام پر تھے اور تو کل کامل کا مقام ہی توحید کامل کا مقام ہوتا ہے جو ابراہیم سے ظاہر ہوا۔ابراہیم کے ذریعہ سے تعمیلِ انسانیت اسی طرح تکمیل انسانیت بھی ابراہیم کے ذریعہ سے ہوئی اور دراصل تکمیلِ انسانیت اور تکمیل توحید لازم و ملزوم ہیں۔جب تک تو حید کی تکمیل نہ ہوا انسانیت کی تکمیل نہیں ہوسکتی اور جب تک انسانیت کی تکمیل نہ ہو تو حید کی تکمیل نہیں ہو سکتی اسی لئے صوفیا ء نے کہا کہ مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ " جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے خدا کو بھی پہچانا۔پس جس طرح فہم انسانی کا ارتقاء ابراہیمی دور میں ہوا اور مذہب کا فلسفہ اپنی شان دکھانے لگا اسی طرح تکمیل انسانیت بھی ابراہیم کے ذریعہ سے ہوئی یعنی انسان کو دوسری اشیاء سے ممتاز قرار دیا گیا اور انسانی قربانی کو منسوخ کیا گیا۔آپ سے پہلے انسانی زندگی کو کوئی قیمت نہیں دی