انوارالعلوم (جلد 15) — Page 587
انوار العلوم جلد ۱۵ موجودہ جنگ میں برطانیہ کی کامیابی کیلئے دعا کی تحریک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان دنوں برطانیہ پر جو ابتلاء آ یا ہوا ہے اس کے متعلق چاہے ہنسیں ، چاہے ٹھٹھا اور مذاق کریں، چاہے ہمیں پاگل اور مجنون سمجھیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ اُن آہوں کا یہ ہے جو ۱۹۳۴ ء، ۱۹۳۵ ء اور ۱۹۳۶ء میں ہمارے دلوں سے بلند ہوئیں۔میرے اُس وقت کے خطبات چھپے ہوئے موجود ہیں ان کو نکال کر پڑھ لیا جائے میں نے متواتر ان خطبات میں کہا ہے کہ انگریز یہ مت خیال کریں کہ اُن کے پاس تو ہیں، فو جیں ، ہوائی جہاز اور بم ہیں کیونکہ جس خدا پر ہمارا انحصار ہے اس کے مقابلہ میں ان چیزوں کی کوئی حیثیت نہیں۔انہوں نے اس وقت میری اس آواز پر کان نہ دھرا اور کہا اس کی کیا حیثیت ہے۔یہ ایک چھوٹی سی جماعت کا فرد ہے جسے جب چاہیں ہم تباہ کر سکتے ہیں اور جب چاہیں مار سکتے ہیں اور یہ نہ سمجھا کہ خدائی مذہب انسانوں کے قید ہونے یا انسانوں کے مارے جانے کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے۔انسان مارے جاتے ہیں حتی کہ بعض انبیاء بھی شہید ہوئے ، انسان قید ہوتے ہیں حتی کہ بعض انبیاء بھی قید ہوئے ، انسان اپنے گھروں سے نکالے جاتے ہیں، حتی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے گھر سے نکالے گئے مگر خدا تعالیٰ کی باتیں دنیا سے کبھی مٹ نہیں سکتیں۔حکومتیں مٹا دی جاتی ہیں، سلطنتیں تباہ کر دی جاتی ہیں، مگر خدا تعالیٰ کا قول دنیا سے کبھی محو نہیں ہوتا۔مجھے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی یہ بات بہت ہی پیاری معلوم ہوتی ہے جو انہوں نے لارڈ ولنگڈن سے ۱۹۳۵ء کی گرمیوں میں کہی جب کہ وہ ہندوستان کے وائسرائے تھے۔انہوں نے کہا کہ سرایمرسن اپنے آپ کو بہت دُوراندیش خیال کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ احمد یہ جماعت بوجہ اپنی تنظیم کے اور ایک امام کے تابع ہونے کے برطانوی حکومت کیلئے ایک ممکن خطرہ ہے اور اس خیال سے وہ احمد یہ جماعت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ تاریخ سے قطعاً نا واقف معلوم ہوتے ہیں یا کم سے کم انہوں نے تاریخ کا صحیح طور پر مطالعہ نہیں کیا کیونکہ اگر وہ ایسا کرتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ جب کبھی کسی شاہنشاہیت نے کسی مذہب سے ٹکر لگائی ہے ہمیشہ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وہ امپائر تباہ ہوگئی ہے مگر مذہب تباہ نہیں ہوا اور سچی بات یہی ہے کہ ایمپائر ز جب مذاہب سے ٹکراتی ہیں وہ مٹ جاتی ہیں مگر خدا تعالیٰ کا قائم کیا ہوا کوئی مذہب آج تک دنیا سے نہیں مٹا اور نہ مٹ سکتا ہے لیکن اس میں بھی کوئی قحبہ نہیں کہ ہمارے ساتھ جو کچھ کیا وہ بعض مقامی افسروں نے کیا تھا۔حکومتِ برطانیہ اس کی بے شک بالواسطہ ذمہ دار تھی مگر بلا واسطہ ذمہ دار نہیں تھی اور اس وجہ سے ضروری ہے کہ ہم حالات کو صحیح طور پر سمجھیں۔