انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 586 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 586

انوار العلوم جلد ۱۵ موجودہ جنگ میں برطانیہ کی کامیابی کیلئے دعا کی تحریک بھی چاہئے لیکن سوال یہ ہے کہ معجزے دیکھنے کیلئے بھی خدا تعالیٰ کی طرف کسی قسم کی توجہ کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔اگر وہ توجہ پیدا ہو جائے تو خدا تعالیٰ بے شک معجزے دکھا دیتا ہے لیکن اگر اس کی طرف توجہ پیدا نہ ہو تو معجزات بھی ظاہر نہیں ہوتے۔مگر ان کی حالت یہ ہے کہ وہ ایک کمزور اور عاجز انسان کو خدائی کے تخت پر بٹھائے ہوئے ہیں اور واحد اور قادر و مقتدر خدا کی طرف ان کی کوئی توجہ نہیں۔اگر وہ اس شرک کو مٹا دیں اور خدائے واحد کی طرف صدق دل کے ساتھ توجہ کریں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ آسمان سے فرشتے اُتر کر ان کی مدد کریں لیکن جب دعا کرتے وقت بھی ایک انسان کی طرف ہی بار بار نظر اُٹھ رہی ہو تو خدا کی برکتیں کس طرح نازل ہوں۔خدا تعالیٰ سے تو ان کا یہ سلوک ہے کہ وہ اس کی جائز حکومت سے اسے محروم کر رہے ہیں اور اپنے متعلق یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ان کی حکومت ان کے پاس ہی رہے۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے یہ خدا کی حکومت خدا کو دیں پھر دیکھ لیں کہ جرمن کے ٹینک اور اس کے ہوائی جہاز آپ ہی آپ اُڑ جاتے ہیں یا نہیں اور خدا تعالیٰ کا قہر ا سے کس طرح جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے اب تک ان سے اچھا سلوک کیا ہے یہ پہلے بھی مشرک تھے ، یہ پہلے بھی ایک انسان کو خدا تسلیم کرتے تھے مگر پھر بھی خدا تعالیٰ نے ان کو حکومت دی اور باوجود اس کے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کو اس کے تخت سے اُتار کر ایک عاجز انسان کو اس کی جگہ بٹھا یا خدا تعالیٰ انہیں دنیا میں ترقی دیتا رہا اور ابھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اور احمدیت اور دنیا کے فوائد اس بات کے متقاضی ہیں کہ ان کو اور مہلت مل جائے کیونکہ بہر حال جہاں تک ہماری نظر جاتی ہے ( ہم نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالیٰ حالات کو بہتر جانتا ہے ممکن ہے خدا تعالیٰ کسی وقت جرمن والوں کے قلوب کو ہی درست کر کے انہیں نیک بادشاہ بنادے لیکن اس وقت تک کا جو تجربہ ہے اس سے ظاہر ہے کہ جرمنی کی حکومت کے ماتحت اس کی غیر ملکی رعایا سکھی نہیں ) انگریز ان لوگوں میں سے ہیں جو اپنی رعایا سے بہتر سلوک کرتے ہیں۔ابھی گزشتہ دنوں ایک کانگریسی اخبار نے ایک مضمون لکھا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ اب وقت نہیں رہا کہ کانگریس برطانیہ کی مخالفت کرے کیونکہ اسے یاد رکھنا چاہئے کہ اس کی طاقت انگریزی ہیونٹس کی حفاظت تلے ہے۔یہ ایک ایسا اعتراف ہے جو خود دشمن نے کیا اور کہتے ہیں الْفَضْلُ مَاشَهِدَتْ بِهِ الأعْدَاءُ ایک کانگریسی اخبار کا یہ کہنا کہ کانگرس کی طاقت انگریزوں کے بیونٹس کی حفاظت کے سبب سے ہے بتاتا ہے کہ انگریزوں کا سلوک اپنی رعایا سے دوسری قوموں کے مقابلہ میں بہت بہتر ہے۔