انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 522

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده کہا ہے اور پہلی قوموں کو خلافت نبوت یا ملوکیت کے ذریعہ سے ملی تھی۔پس اسی حد تک تشبیہ تسلیم کی جاسکتی ہے۔ہم مانتے ہیں کہ مسلمانوں میں نبی ہوں گے اور پھر یہ کہ ملوک ہوں گے۔مگر جس قسم کی خلافت تم کہتے ہو وہ نہ تو نبوت کے تحت آتی ہے اور نہ ملوکیت کے تحت آتی ہے۔پھر اس کا وجود کہاں سے ثابت ہوا۔تیسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اگر اس خلافت کو تسلیم بھی کر لیا جائے جو آنحضرت ﷺ کے بعد ہوئی تو چونکہ اس خلافت کے ساتھ حکومت بھی شامل تھی اس لئے وَجَعَلَكُمْ مُلُوعًا کے ماتحت وہ آ سکتی تھی لیکن اس خلافت کا ثبوت کہاں سے ملا جو جماعت احمدیہ میں قائم ہے۔یہ خلافت نہ تو خلافت نبوت ہے اور نہ خلافت ملوکیت۔چو تھا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس آیت سے اگر افراد مراد لئے جائیں جماعت نہ لی جائے تو پھر خلافت نبوت اور خلافت ملوکیت کا پتہ چلتا ہے اور معنی یہ بنتے ہیں کہ اس اُمت میں سے بعض افراد نبی ہوں گے اور بعض افراد ملوک ہوں گے۔مگر جو خلافتِ نبوت پہلے جاری تھی اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ختم کر دیا اور تم خود بھی تسلیم کرتے ہو کہ جس قسم کے نبی پہلے آیا کرتے تھے اب اس قسم کے نبی نہیں آسکتے اور ملوکیت کے متعلق بھی تم خود قائل ہو کہ خلفاء ملوک میں شامل نہ تھے۔جیسا کہ احادیث میں آتا ہے عَن النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله الا الله تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللهُ اَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَا جِ النُّبُوَّةِ مَاشَاءَ اللَّهُ اَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُوْنُ مُلْكَاً عَاضًا فَتَكُوْنُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُوْنَ۔۵ یعنی رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔تم میں نبوت رہے گی جب تک خدا چاہے گا پھر خدا اس نعمت کو اٹھا لے گا اور تمہیں خلافت علی منہاج النبوت کی نعمت دے گا اور یہ خلافت تم میں اس وقت تک رہے گی جب تک خدا چاہے گا۔پھر خدا اس نعمت کو بھی اٹھا لے گا اور جب تک چاہے گا تم میں ملوکیت کو قائم رکھے گا۔پس جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلفاء کے بادشاہ ہونے سے بھی انکار کیا ہے جیسا کہ فرمایا کہ پہلے خلافت ہوگی اور پھر ملوکیت تو معلوم ہوا کہ خلافت نبوت اور خلافت ملوکیت دونوں اُمت محمدیہ کے افراد کو نہیں مل سکتیں اور جب صورت یہ ہے تو اس آیت سے کسی فردی خلافت کا ثبوت نہ ملا بلکہ صرف قومی خلافت ہی مراد لی جاسکتی ہے اور اس سے کسی کو انکار نہیں۔