انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 521 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 521

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده انہیں کھانسی اٹھی تو انہوں نے کسری شاہ ایران کا رومال نکال کر اس میں تھوک دیا اور پھر کہا بخ بخ ابوھریرہ۔کہ واہ ، واہ ابو ہریرہ تیری بھی کیا شان ہے کہ تو آج کسری شاہ ایران کے رومال میں تھوک رہا ہے۔لوگوں نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بعض دفعہ مجھے اتنے فاقے ہوتے تھے کہ میں بھوک سے بیتاب ہوکر بیہوش ہو جاتا تھا اور لوگ یہ سمجھ کر کہ مجھے مرگی کا دورہ ہو گیا ہے میرے سر پر جوتیاں مارنی شروع کر دیتے تھے مگر آج یہ حالت ہے کہ میں شاہی رومال میں تھوک رہا ہوں۔۵۶ تو يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا کی علامت خدا تعالیٰ نے خلفائے راشدین کے ذریعہ نہایت واضح رنگ میں پوری فرمائی اور انہوں نے خدا تعالیٰ کے سوا کبھی کسی کا خوف اپنے دل میں نہیں آنے دیا۔اسی طرح حضرت حضرت عثمان اور حضرت علیؓ کا دلیرانہ مقابلہ عثمان جیسے باحیا اور رقیق القلب انسان نے اندرونی مخالفت کا مقابلہ جس یقین سے کیا وہ انسانی عقل کو دنگ کر دیتا ہے۔حالانکہ وہ عام طور پر کمزور سمجھے جاتے ہیں مگر جب ان کا اپنا زمانہ آیا تو انہوں نے ایسی بہادری اور جرات سے کام لیا کہ انسان ان واقعات کو پڑھ کر حیران رہ جاتا ہے۔یہی حال حضرت علی کا ہے کسی مخالفت یا خطرے کی انہوں نے پروانہیں کی حالانکہ اندرونی خطرے بھی تھے اور بیرونی بھی۔مگر ان کے مد نظر صرف یہی امر رہا کہ خدا تعالیٰ کی مرضی پوری ہو اور ذرا بھی کسی سے خوف کھا کر اس منشاء الہی میں جو انہوں نے سمجھا تھا فرق نہیں آنے دیا۔غرض تمام خلفاء کے حالات میں ہمیں يَعْبُدُونَني لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا کا نہایت اعلیٰ درجہ کا نظارہ نظر آتا ہے جو اس بات کا یقینی اور قطعی ثبوت ہے کہ خدا تعالیٰ نے انہیں خود مقام خلافت پر کھڑا کیا تھا اور وہ آپ ان کی تائید اور نصرت کا ذمہ وار رہا۔اب میں ان اعتراضات کو لیتا ہوں جو عام طور آیت استخلاف پر اعتراضات پر اس آیت پر کئے جاتے ہیں۔پہلا اعتراض اس آیت پر یہ کیا جاتا ہے کہ اس آیت میں اُمتِ مسلمہ سے وعدہ ہے نہ کہ بعض افراد سے اور اُمت کو خلیفہ بنانے کا وعدہ ہے نہ کہ بعض افراد کو۔پس اس سے مراد مسلمانوں کو غلبہ اور حکومت کا مل جانا ہے۔دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس آیت میں گكُمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ