انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 503

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده مان لو اور اگر مفید نہ ہو تو اُسے رڈ کر دو۔چاہے اُسے پیش کرنے والی اکثریت ہی کیوں نہ ہو بالخصوص ایسی حالت میں جب کہ وہ گناہ والی بات ہو۔پہلی خلافتیں یا تو خلافت نبوت پس پہلی خلافتیں یا تو خلافت نبوت تھیں جیسے حضرت آدم اور حضرت داؤد عَلَيْهِمَا السَّلامُ تھیں یا خلافت ملوکیت کی خلافت تھی اور یا پھر خلافت حکومت تھیں جیسا کہ فرمایا۔وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاء مِنْ بَعْدِ قَوْمٍ نُوحٍ وَ زَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَصْطَةً : فَاذْكُرُوا الاء اللَّهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ۵۰ یعنی اس وقت کو یاد کرو جب کہ قوم نوح کے بعد خدا نے تمہیں خلیفہ بنایا اور اُس نے تم کو بناوٹ میں بھی فراخی بخشی یعنی تمہیں کثرت سے اولا د دی پس تم اللہ تعالیٰ کی اُس نعمت کو یاد کرو تا کہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔اس آیت میں خلفاء کا جو لفظ آیا ہے اس سے مراد صرف دُنیوی بادشاہ ہیں اور نعمت سے مراد بھی نعمت حکومت ہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں نصیحت کی ہے کہ تم زمین میں عدل وانصاف کو مد نظر رکھ کر تمام کام کرو ورنہ ہم تمہیں تباہ کر دیں گے۔چنانچہ یہود کی نسبت اس انعام کا ذکر ان الفاظ میں فرماتا وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يُقَوْما ذَكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أنْبِيَاء وَجَعَلَكُمْ مُلُوعًا ، وَاتْكُمْ ما لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِّن العلمين الله یعنی اس قوم کو ہم نے دو طرح خلیفہ بنایا راةً جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاء کے ماتحت انہیں خلافت نبوت دی اور جَعَلَكُمْ مُلُوعًا کے ماتحت انہیں خلافت ملوکیت دی۔غرض پہلی خلافتیں دو قسم کی تھیں۔یا تو وہ خلافت نبوت تھیں اور یا پھر خلافت ملوکیت۔پس جب خدا نے یہ فرمایا ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ في الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ تو اس سے یہ استنباط ہوا کہ پہلی خلافتوں والی برکات اِن کو بھی ملیں گی اور انبیاء سابقین سے اللہ تعالیٰ نے جو کچھ سلوک کیا وہی سلوک وہ اُمتِ محمدیہ کے خلفاء کے ساتھ بھی کرے گا۔ہے۔خلافت ملوکیت کو چھوڑ کر صرف خلافتِ نبوت اگر کوئی کہے کہ پہلے تو خلافت ملوکیت کا کے ساتھ مشابہت کو کیوں مخصوص کیا گیا ہے بھی ذکر ہے۔پھر خلافت ملوکیت کا ذکر چھوڑ کر صرف خلافت نبوت کے ساتھ اُس کی مشابہت کو کیوں مخصوص کیا گیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ آیت کے الفاظ بتاتے ہیں کہ گو مسلمانوں سے دوسری آیات میں