انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 483

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده کو اُن کے اہل کے سپرد کرو۔یعنی اپنے لئے ایسے سردار چنو جو اس امانت کو اٹھانے کے اہل ہوں۔(۲) وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالعَدْلِ پھر ہم ان کو جن کے سپرد یہ امانت کی جائے حکم دیتے ہیں کہ وہ انصاف اور عدل سے کام کریں گویا دونوں کو حکم دے دیا۔ایک طرف لوگوں سے کہا کہ اے لوگو! ہم تم کو حکم دیتے ہیں کہ تم حکومت کے اختیارات ہمیشہ ایسے لوگوں کے سپرد کیا کرو جو ان اختیارات کو سنبھالنے اور حکومت کے کام کو چلانے کےسب سے زیادہ اہل ہوں اور پھر اے اہل حکومت ! ہم تم کو بھی حکم دیتے ہیں کہ تم رعایا کے ساتھ عدل وانصاف کا معاملہ رکھو اور کبھی بے انصافی کو اپنے قریب نہ آنے دو۔إن الله نعما يَعِظُكُمْ بِه اِنَّ اللهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا - اللہ تعالیٰ کا یہ حکم بہت بڑی حکمتوں پر مشتمل ہے اور وہ ہمیشہ تم کو اچھی باتوں کا حکم دیتا ہے اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے۔اس طرح جب ایک نظام قائم ہو جائے تو فرماتا ہے کہ اب جو غرض نظام کی تھی یعنی دین کی تمکین تم اس کی طرف توجہ کرو اور قومی عبادات اور قومی کاموں کے متعلق جو احکام ہیں ان کی بجا آوری کی طرف توجہ کرو۔عبادات اور فرائض شخصی بھی ہوتے ہیں اور قومی بھی۔جو شخصی عبادات اور فرائض ہیں اُن کیلئے کسی نظام کی ضرورت نہیں اور انہیں انتخاب امراء کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔پس انتخاب امراء کے بعد جو اطیعوا اللهَ وَاطِيْعُوا الرَّسُول بیان فرما یا اس کے یہی معنی ہیں کہ نظام کی غرض یہ تھی کہ قومی عبادات اور فرائض صحیح طور پر ادا ہوسکیں۔پس تم کو چاہئے کہ جب نظام قائم ہو جائے تو اس کی غرض کو پورا کرنے کی کوشش کرو۔یہ نہیں کہ نظام بنا کر اپنے گھروں میں بیٹھ جاؤ اور سارا کام امراء پر ڈال دو۔امراء کا قیام کام کرنے کیلئے نہیں ہوتا بلکہ کام لینے کیلئے ہوتا ہے۔پس چاہئے کہ جب امراء قائم ہو جائیں تو تم قو می ذمہ واریوں کو ادا کرنے میں لگ جاؤ۔چنانچہ فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُول و أولى الأمرِ مِنكُمْ۔یعنی جب تم نے امراء کا انتخاب کر لیا تو آب سن لو کہ تم پر تین حکومتیں ہوں گی۔اوّل اللہ کی حکومت۔دوم رسول کی حکومت۔سوم اولی الامر کی حکومت ہاں قران تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ والرَّسُولِ إِن كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ و اليوم الأخير۔چونکہ امراء ان ذمہ واریوں کی ادائیگی کے متعلق مختلف سکیمیں تجویز کریں گے تمہیں چاہئے کہ تم ان سکیموں میں ان کی اطاعت کرو لیکن اگر کبھی تمہارا ان سے اختلاف ہو جائے تو ان اختلافات کو اللہ اور رسول کی طرف لے جاؤ۔یعنی ان اصول کے مطابق طے کرو جو