انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 482

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده اس حدیث کی تشریح کہ جنت یہ حدیث کہ جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے یہ بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر ماں ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے اچھی تربیت کرے تو اچھی نسل پیدا ہوگی او اور جو انعامات باپ حاصل کرے گا وہ دائمی ہو جائیں گے لیکن اگر ماں اچھی تربیت نہیں کرے گی تو باپ کے کمالات باپ تک ختم ہو جائیں گے اور دنیا کو جنات عدن حاصل نہیں ہونگی۔یہی مفہوم اس حدیث سے بھی ظاہر ہوتا ہے جو معاویہ بن جاہمہ سے مروی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ يَا رَسُولَ اللهِ ! مجھے اجازت دیجئے کہ میں فلاں جہاد میں شامل ہو جاؤں۔آپ نے فرمایا۔کیا تیری ماں زندہ ہے۔اس نے کہا ہاں حضور زندہ ہے۔آپ نے فرمایا۔فَالْزِمُهَا فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا - ٢٠ جا اور اسی کے پاس رہ کیونکہ اُس کے قدموں میں جنت ہے۔معلوم ہوتا ہے اس میں بعض ایسے نقائص تھے جن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے تھے کہ اگر وہ ماں کی صحبت میں رہا تو اس کی عمدہ تربیت سے وہ دُور ہو جائیں گے۔ممکن ہے اس میں تیزی اور جوش کا مادہ زیادہ ہو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سمجھا ہو کہ اگر یہ جہاد پر چلا گیا تو اس کی طبیعت میں جو جوش کا مادہ ہے وہ اور بھی بڑھ جائے گا لیکن اگر اپنی والدہ کے پاس رہا اور اس کی اطاعت کرتے ہوئے اسے اپنے جوشوں کو دبانا پڑا تو اس کی اصلاح ہو جائے گی۔بہر حال کوئی ایسی ہی کمزوری تھی جس کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کیلئے ماں کی تربیت جہاد کے میدان سے زیادہ بہتر تھی اور اُسے اپنی والدہ کی خدمت میں رہنے کا ارشاد فرمایا۔یہ حدیث بھی ظاہر کرتی ہے کہ جنت عورت کے تعاون کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔غرض عورت کا جنت میں ہونا ضروری ہے نہ صرف اگلی جنت میں بلکہ دنیوی جنت میں بھی کیونکہ اس کے بغیر کوئی قوم کا میاب نہیں ہوسکتی۔پھر فرماتا ہے کہ یہ فضل اور رحمت جو تم امانات کو اُن کے اہل کے سپر د کر نے کا حکم کو حاصل ہوگی اُس کے قیام کیلئے ایک نظام کی ضرورت ہے ، خود سری اور پراگندگی سے قوم اس انعام کو حاصل نہیں کر سکتی۔پس اس جنت کے قیام کیلئے جو طریق تم کو اختیار کرنا چاہئے وہ ہم تمہیں بتاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ إن الله يأمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الأمنتِ إِلَى أَهْلِهَا دُنیوی حکومتیں اور مال و املاک پر قبضے یہ سب تمہارے پاس خدا تعالیٰ کی امانتیں ہیں۔پس ہم تم کو حکم دیتے ہیں کہ (۱) تم امانتوں