انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 404

انوار العلوم جلد ۱۵ تقریر بجواب ایڈریس ہائے جماعتہائے اح حقیقی اسلامی سادگی کا نمونہ نظر آتا ہے اور اس لئے میں انہیں مبارک باد دیتا ہوں۔محض چھاپ لینے کو میں سادگی کے خلاف نہیں سمجھتا۔باقی جو ایڈریس پیش کئے گئے ہیں ان میں سادگی کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔حقیقی سادگی وہ ہوتی ہے جسے انسان ہر جگہ اور ہمیشہ نباہ سکے اور اس کی قدردانی کے طور پر میں ان سے وعدہ کرتا ہوں کہ ان کا سارا ایڈریس پڑھوں گا۔جب سے یہ خلافت جو بلی کی تحریک شروع ہوئی ہے میری طبیعت میں ہمیشہ ایک پہلو سے انقباض سا رہتا آیا ہے اور میں سوچتا رہا ہوں کہ جب ہم خود یہ تقریب منائیں تو پھر جو لوگ برتھ ڈے یا ایسی یہ دیگر تقاریب مناتے ہیں انہیں کس طرح روک سکیں گے۔اب تک اس کے لئے کوئی دلیل میری سمجھ میں نہیں آسکی اور میں ڈرتا ہوں کہ اس کے نتیجہ میں ایسی رسوم جماعت میں پیدا نہ ہو جائیں جن کو مٹانے کے لئے احمدیت آئی ہے۔ہماری کامیابی اور فتح یہی ہے کہ ہم دین کو اسی طرح دوبارہ قائم کر دیں جس طرح رسول کریم ہے اسے لائے تھے اور ایسے رنگ میں قائم کر دیں کہ شیطان اس پر حملہ نہ کر سکے اور کوئی کھڑکی ، کوئی روشن دان اور کوئی ڈر اس کے لئے گھلا نہ رہنے دیں اور جب سے یہ تقریب منانے کی تحریک شروع ہوئی ہے میں یہی سوچتا رہا ہوں کہ ایسا کرتے ہوئے ہم کوئی ایسا روشن دان تو نہیں کھول رہے کہ جس سے شیطان کو حملہ کا موقع مل سکے اور اس لحاظ سے مجھے شروع سے ہی ایک قسم کا انقباض سا رہا ہے کہ میں نے اس کی اجازت کیوں دی اور اس کے متعلق سب سے پہلے انشراح صدر مجھے مولوی جلال الدین صاحب شمس کا ایک مضمون الفضل میں پڑھ کر ہوا جس میں لکھا تھا کہ اسوقت گویا ایک اور تقریب بھی ہے اور وہ یہ کہ سلسلہ کی عمر پچاس سال پوری ہوتی ہے۔تب میں نے سمجھا کہ یہ تقریب کسی انسان کے بجائے سلسلہ سے منسوب ہو سکتی ہے اور اس وجہ سے مجھے خود بھی اس خوشی میں شریک ہونا چاہئے۔دوسرا انشراح مجھے اس وقت پیدا ہوا جب ڈر مشین سے وہ نظم پڑھی گئی جو آمین کہلاتی ہے۔اس کو سُن کر مجھے خیال آیا کہ یہ تقریب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک پیشگوئی کو بھی پورا کرنے کا ذریعہ ہے جو اس میں بیان کی گئی ہے اور اس کا منانا اس لحاظ سے نہیں کہ یہ میری پچیس سالہ خلافت کے شکریہ کا اظہار ہے بلکہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی بات کے پورا ہونے کا ذریعہ ہے نا مناسب نہیں اور اس خوشی میں میں بھی شریک ہو سکتا ہوں اور میں نے سمجھا کہ گواپنی ذات کے لئے اس کے منائے جانے کے متعلق مجھے انشراح نہ تھا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے پورا ہونے کے لحاظ سے انشراح ہو گیا۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ایک مرتبہ ایک