انوارالعلوم (جلد 15) — Page 403
انوار العلوم جلد ۱۵ تقریر بجواب ایڈریس ہائے جماعتہائے اح اتصال ہو گیا ہے۔یہاں تک کہ جب میں نے تقریر ختم کی تو حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ یہ تقریر سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی اور انہوں نے قرآن کریم کے جو معارف بیان کئے ہیں باوجود اس کے کہ میں نے بڑی بڑی تفاسیر پڑھی ہیں اور میری لائبریری میں بعض نایاب تفاسیر موجود ہیں مگر یہ معارف نہ مجھے پہلے معلوم تھے اور نہ میں نے کہیں پڑھے ہیں۔سو جب دوران تقریر میں وہ کیفیت مجھ پر طاری ہوتی ہے تو میں محسوس کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ گل دبائی گئی ہے اور اب اللہ تعالیٰ میرے دماغ میں ایسے معارف نازل کرے گا کہ جو میرے علم میں نہیں ہیں اور بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ قرآن شریف پڑھتے ہوئے بھی وہ کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔آج بھی وہ کیفیت شروع ہوئی تھی مگر اس وقت جو ایڈریس پڑھے گئے ہیں ان کوسن کر وہ دُور ہوگئی۔ایک دفعہ آنحضرت ﷺ گھر سے باہر تشریف لائے تو دو شخص آپس میں لڑ رہے تھے۔آپ نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر کے متعلق بتایا تھا کہ وہ کونسی رات ہے مگر ان کی لڑائی کو دیکھ کر وہ مجھے بھول گئی ہے اسی طرح مجھ پر بھی وہ کیفیت طاری ہوئی تھی مگر ا سکے بعد ایڈریس شروع ہوئے۔ان میں سے بعض ایسی زبانوں میں تھے کہ نہ میں کچھ سمجھ سکا اور نہ آپ لوگ اور میں نے محسوس کیا کہ یہ بناوٹ ہے اور منتظمین دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ ہم میں ایسی ایسی زبانیں جاننے والے لوگ موجود ہیں اور اس ظاہر داری کو دیکھ کر میری طبیعت پر ایسا بُرا اثر ہوا کہ وہ کیفیت جاتی رہی۔ہم لوگ تو اپنے جذبات کو دبانے کے عادی ہیں اور جن لوگوں نے بڑے کام کرنے ہوتے ہیں ان کو یہ مشق کرنی پڑتی ہے۔سرکاری افسروں کو دیکھ لو مثلاً تحصیلدار اور تھانیدار وغیرہ ہیں سب قسم کے لوگ ان کے پاس آتے اور باتیں کرتے ہیں اور وہ سب کی باتیں سنتے جاتے ہیں لیکن اس مجلس میں ایسے لوگ بھی تھے جو جذبات کو دبانے کے عادی نہیں۔اس لئے ان میں ایک بے چینی سی تھی اور وہ بھاگ رہے تھے اور یہ نظارہ میرے لئے تکلیف دہ تھا اور اس وجہ سے وہ کیفیت دُور ہو گئی۔گو اب میں اگر اسی مضمون کو بیان کرنا شروع کر دوں تو وہ بٹن پھر دب جائے گا مگر پہلے جو کچھ میرے ذہن میں تھا وہ اب یاد نہیں آ سکتا۔بہر حال مجھے کچھ کہنا چاہئے اور اس کا رروائی کے متعلق جہاں تک دُنیوی عقل کا تعلق ہے میں آب بھی بیان کر سکتا ہوں۔مجھے بتایا گیا ہے کہ ہر ایک نمائندہ نے وعدہ کیا تھا کہ تین منٹ کے اندر اندر اپنا ایڈریس ختم کر دے گا لیکن سوائے اس ایڈریس کے جو ہندوستان کی جماعتوں کی طرف سے پیش کیا گیا اور کسی نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا پھر وہ جس طرح پیش کیا گیا ہے اس میں