انوارالعلوم (جلد 15) — Page 388
انوار العلوم جلد ۱۵ اہم اور ضروری امور واحد ذریعہ ہیں یا آپ اور ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہیں اور آپ کے علاوہ بھی کوئی شخص ایسا ہو سکتا ہے جو ہمیں خدا تعالیٰ تک پہنچائے۔اگر آپ بنی نوع انسان کو خدا تعالیٰ تک پہنچانے کا واحد ذریعہ ہوں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ گو آپ خدا تو نہیں مگر چونکہ خدا آپ کے بغیر نہیں مل سکتا اس لئے آپ کیلئے بھی وہی قربانی کرنی پڑے گی جو انسان خدا کیلئے کرتا ہے کیونکہ آپ کے بغیر اور کوئی شخص ہمیں خدا تک نہیں پہنچا سکتا۔اس نقطہ نگاہ کے ماتحت تم غور کر کے دیکھ لو صلى الله رسول کریم ﷺ کو تمام انبیاء میں ایک امتیازی شان حاصل ہے اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کے نام کو کلمہ میں بھی شامل کیا ہے یہ بتانے کے لئے کہ جس طرح اللہ ایک ہے اسی طرح اب صلى الله خدا تعالیٰ تک پہنچانے والا رسول بھی ایک ہی ہے۔پس رسول کریم ﷺ اور دوسرے رسولوں میں یہ فرق ہے کہ ان کے زمانوں میں بھی وہ خدا تعالیٰ تک پہنچانے کا ذریعہ تو ضرور تھے مگر وہ واحد ذریعہ نہ تھے۔چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام کو اگر کسی یہودی نے نہ مانا ہوتا اور وہ ہندوستان میں آ کر حضرت کرشن علیہ السلام کو مان لیتا تو اس کے لئے اتنا ہی کافی تھا یا ایران میں جا کر وہاں کے کسی نبی پر ایمان لے آتا تو یہ امر اس کی نجات کیلئے کافی تھا مگر محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد خدا تعالیٰ نے اس طریق کو اُڑا دیا اور دنیا کی ہر قوم اور ہر مذہب والے کیلئے آپ کا ماننا ضروری قرار دیدیا۔اب کوئی شخص یہ نہیں کہ سکتا کہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کی بجائے فلاں نبی کو قبول کر لیتا ہوں، اگر آپ کو نہ مانا تو اس میں کیا حرج ہے کیونکہ گو آپ اللہ تعالیٰ تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں مگر واحد ذریعہ ہیں اور خواہ کوئی امریکہ میں رہتا ہو یا افریقہ میں اسی دروازہ میں سے اسے گزرنا پڑے گا اور آپ پر ایمان لانا اس کیلئے ضروری ہو گا مگر پہلے انبیاء واحد ذریعہ نہیں تھے۔بے شک اُن انبیاء میں سے بعض پہلو ٹھے کہلاتے لیکن محمد رسول اللہ اللہ اکلوتے بیٹے تھے اور اکلوتے اور پہلوٹھے میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔پہلوٹھے کے معنی بڑے بیٹے کے ہوتے ہیں مگر اکلوتے کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اس کے سوا اور کوئی بیٹا نہیں۔پس وہ پہلو ٹھے بے شک ہوں مگر اپنے اپنے زمانہ میں وہ اکلوتے نہ تھے لیکن محمد رسول اللہ ﷺ اپنے زمانہ میں اکلوتے روحانی بیٹے تھے اور آپ کے آنے پر پہلے تمام انبیاء کی نبوتیں ختم ہو گئیں، اب نہ مصر کے نبی کی نبوت کام دے سکتی ہے، نہ چین کے نبی کی نبوت کام دے سکتی ہے، نہ شام کے نبی کی نبوت کام دے سکتی ہے، نہ ایران اور ہندوستان کے کسی نبی کی نبوت کام دے سکتی ہے، اب ہر ایک شخص کیلئے خواہ وہ مصر میں رہتا ہو یا چین، جاپان ، ایران اور ہندوستان میں رہتا ہوضروری ہے کہ وہ محمد رسول اللہ اللہ