انوارالعلوم (جلد 15) — Page 323
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) قومی تباہی کے اسباب اب دیکھ لو کہ نظام انسانی کی جاہی ان تین امور سے ہی وابستہ ہے جب کوئی قوم ہلاک یا تباہ ہوتی ہے تو اس کا یا تو یہ سبب ہوتا ہے کہ بعض ذہین اور طباع لوگ اپنے جوش عمل سے گمراہ ہو کر دوسروں کی ذمہ داریاں اپنے اوپر لینی شروع کر دیتے ہیں یا تو غیر قوموں کی حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ دنیا پر احسان کر رہے ہیں یا خود اپنے ملکی یا قومی نظام میں اس قدر کام اپنے ذمہ لے لیتے ہیں کہ ان کا پورا کرنا ان سے ناممکن ہوتا ہے اور اس طرح ملکی یا ملی کام تباہ ہو جاتے ہیں اور قوم یا ملک بجائے ترقی کرنے کے تنزل کی طرف چلا جاتا ہے۔بڑے بڑے فاتحین جو شہاب کی طرح چمکے شہاب کی طرح ہی غائب ہو گئے ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔اُنہوں نے خود تو کچھ شہرت اور عزت حاصل کر لی لیکن قومی نظام کو ایک دھکا لگا گئے اور نظامِ ارضی کی مشین میں ان کی قوم کے پرزہ کی جو جگہ تھی اس سے ہلا کر دوسری جگہ کر گئے جس سے قوم کو بھی صدمہ پہنچا اور دنیا کو بھی۔اسی طرح وہ جو شیلے قومی کا رکن جو ہر مجلس پر چھا جانا چاہتے ہیں اور جوش عمل کی وجہ سے سب عہدے اپنے ہی ہاتھوں میں رکھنا چاہتے ہیں قوم کی تباہی کا موجب ہو جاتے ہیں، کیونکہ ایک تو وہ سب کام اچھی طرح کر ہی نہیں سکتے اور دوسرے اس وجہ سے قوم میں اچھے دماغ پیدا ہونے کا امکان کم ہو جاتا ہے کیونکہ باقی دماغ نکتے رہ کر کمزور ہو جاتے ہیں۔حال ہی میں ایک وسیع ہندوستانی ادارہ کے بارہ میں ایک معزز ہندوستانی نے مجھ سے کہا کہ میں بارہا اس ادارہ کے کرتا دھرتا کو کہہ چکا ہوں کہ تم اِس ادارہ کو منظم کرو، سیکرٹریٹ بناؤ ، انسپکٹر مقرر کرو، تا کہ کام وسیع ہو اور کام کرنے والوں کی جماعت تیار ہو مگر وہ سنتا ہی نہیں۔یہ شکایت ان کی بجا تھی اور میں نے دیکھا ہے کہ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اس ادارہ میں کام کرنے والی کوئی نئی پود تیار نہیں ہو رہی۔ڈکٹیٹروں پر ڈیما کریسیز کو اسی وجہ سے فوقیت حاصل ہوتی ہے کہ اس میں کام کرنے والے پیدا ہوتے رہتے ہیں اور ان کے آگے بڑھنے کے لئے راستہ کھلا رہتا ہے پس جو قوم یا ملک اچھا نظام اور پائیدار نظام قائم کرنا چاہے اسے نظامِ عالم سے یہ سبق سیکھ لینا چاہئے کہ ہر فرد اپنا کام ہی کرے دوسروں کے کام سمیٹنے کی کوشش نہ کرے، ورنہ وہ سب کام نہ کر سکے گا اور دوسروں کے دماغ معطل ہو جا ئینگے۔قومی زندگی پائیدار بنانے کے لئے متواتر لائق افراد کا پیدا ہونا ضروری ہے اور لائق افراد بغیر تجربہ اور عملی کام کے پیدا نہیں ہو سکتے۔پس زیادہ ذہین اور قابل اشخاص کا فرض ہے کہ وہ کام کو اچھا بنانے کے شوق میں دوسروں کے لئے راستہ بند نہ