انوارالعلوم (جلد 15) — Page 322
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) قسم کی تکالیف سے بچ سکتا ہے اور نقصانوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔اس نظام میں ہر فرد اپنے مفوضہ کام کو بجالا رہا ہے اور دوسرے کے دائرہ میں دخل نہیں دیتا نہ ظلم کے ساتھ نہ تخسیر کے ساتھ یعنی نہ اس سے زیادہ کام لیتا ہے نہ اس کا حق کم کرتا ہے اور نہ دوسرے کے کام میں دخل دیتا ہے۔یہی اطاعت ، ذمہ داری کی ادائیگی کا احساس اور دوسرے کے امور میں دخل اندازی سے اجتناب ہی ایسے قوانین ہیں جن کو نظر انداز کر کے بنی نوع انسان اپنے تمدن کو تباہ اور برباد کر رہے ہیں۔نظام عالم کی کامیابی کے تین اصل اس جگہ نظام عالم کے کامل ہونے کے تین اصل بیان فرمائے ہیں۔(۱) کوئی فرد اپنے مفوضہ کام سے زیادہ نہیں کر رہا۔(۲) ہر فرد اپنے مفوضہ کام کو پوری طرح ادا کر رہا ہے۔(۳) کوئی فرد دوسرے فرد کو اس کے فرض کی ادائیگی سے روک نہیں رہا، یا اس کے ادا کرنے کی قابلیت سے اسے محروم نہیں کر رہا۔غور کر کے دیکھ لو نظام عالم کی کامیابی کا انحصار انہی تین باتوں پر ہے اور انسانی نظام کی خرابی یا بے ثباتی کا سبب بھی ان تینوں یا ان میں سے کسی کا فقدان ہوتا ہے اور انہیں سے محفوظ رہنے کے لئے قرآن کریم نے نظام عالم کو دیکھنے اور اس سے سبق لینے کے لئے اس جگہ اشارہ فرمایا ہے۔یہ آیات سورۃ الرحمن کے شروع میں ہیں جہاں کہ قرآن کریم کی آمد کی غرض بیان کی گئی ہے۔ظاہر ہے کہ خالی ترازو کے تول اور بنوں کے درست رکھنے کا مضمون نہ تو قرآن کریم کے نزول کے اغراض سے خاص تعلق رکھتا ہے اور نہ نظام عالم سے۔پس ظاہر ہے کہ اس جگہ گیہوں اور چاولوں کے ماپ اور تول کا ذکر نہیں بلکہ انسانی اعمال کے ماپ اور تول کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ انسان کو اپنی سوسائٹی کے بنیادی اصول نظام عالم کے مطابق رکھنے چاہئیں اور جو قیو دا ورحد بندیاں اس پر الہی قانون نے لگائی ہیں ان کو تو ڑ نا نہیں چاہئے اور نہ تو یہ کرنا چاہیئے کہ کام کا اس قدر جوش ہو کہ دوسروں کے مفوضہ کاموں میں دخل دینے لگ جائے اور نہ یہ غفلت کرے کہ اپنے فرض کو بھی ادا نہ کرے اور نہ یہ ظلم کرے کہ دوسروں کو بھی ان کے کام سے روکے خواه با لواسطہ یا بلا واسطہ۔