انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 319

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) درخت کے ہیں اس کا عطف ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ بغیر تنے والی سبزیاں ہوں یا تنے والے درخت ہوں سب اپنے اُگنے نشو ونما پانے اور پھل لانے میں سورج اور چاند کے پیچھے چلتے ہیں اور ان سے متاثر ہوتے ہیں۔چنانچہ دیکھ لو دنیا کے حصہ شمالی اور حصہ جنوبی میں موسم کا فرق ہوتا ہے جب شمال میں سردی ہوتی ہے جنوب میں گرمی ہوتی ہے اور جب شمالی حصہ میں گرمی ہوتی ہے جنوبی حصہ میں سردی ہوتی ہے اور اس تغیر کی وجہ سے دونوں حصوں کی فصلوں کے موسموں میں بھی فرق پڑ جاتا ہے اور اسی کی طرف والتَّجمُ والشَّجَرُ يَسْجُدُنِ میں اشارہ فرمایا ہے کہ سورج اور چاند جس قانون کے تابع ہیں اسی کے تابع سبزیاں، ترکاریاں، جڑی بوٹیاں اور بڑے درخت ہیں اور وہ ان سے متاثر ہوتے ہیں۔پس اس آیت سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ زمین کے اندر جو تغیرات ہوتے ہیں وہ نظام شمسی کا ایک حصہ ہیں اور ان سے متاثر ہوتے ہیں آزاد نہیں ہیں۔پھر فرماتا ہے وَالسَّمَاء رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزان یعنی اس سورج چاند کے نظام کے اوپر ایک اور نظام ہے یعنی نظام شمسی نظام عالم کے ماتحت ہے جس طرح کہ نظام ارضی نظام شمسی کے ماتحت ہے اور نظام عالم بھی ایک معین اور مقررہ قانون کے تابع ہے اور اس کے اجزاء ایک دوسرے سے آزاد نہیں ہیں۔اس آیت میں کیسی زبر دست سچائی بیان کی گئی ہے جو قرآن کریم کے وقت میں کسی کو معلوم نہ تھی، بلکہ صرف حال ہی کے زمانہ میں اس کا علم لوگوں کو ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ نظام شمسی ہی ایک نظام نہیں بلکہ وہ نظام ایک اور بالا اور وسیع تر نظام کا حصہ ہے جو سماء یعنی عالم محتوی کہلاتا ہے اور رفقھا کہہ کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ نظام ماقبل کے بیان کردہ نظاموں سے یعنی نظام ارضی اور نظامِ شمسی سے بلند مرتبہ اور وسیع تر ہے اور ووضع الميزان کہہ کر یہ بتایا ہے کہ وہ بالا اور بلند نظام بھی میزان کے تابع رکھا گیا ہے اور ایک قانون کا پابند کر دیا گیا ہے آزاد نہیں ہے۔اس مضمون میں مندرجہ ذیل علوم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:- (۱) نظام ارضی نظام شمسی کے تابع ہے نہ کہ اس پر حاکم یہ وہ نکتہ ہے جسے مشہور مہندس گلیلیو (GALILEO) نے جب دریافت کیا اور اس امر کا اعلان کیا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے نہ کہ سورج زمین کے گرد، جیسا کہ اُس وقت عام خیال تھا تو اُس پر عیسائی دنیا نے گفر کا فتویٰ لگا دیا اور کہا کہ اگر اس امر کو تسلیم کر لیا جائے کہ زمین سورج کے گردگھومتی ہے تو پھر سورج کو زمین سے افضل ماننا پڑیگا اور اس کے نتیجہ میں انسان کی افضلیت مشتبہ ہو جائے گی اور مذہب باطل ہو