انوارالعلوم (جلد 15) — Page 318
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) ثابت کیا ہے کہ مسلمانوں میں دیر سے یہ خیال چلا آ رہا ہے کہ ہجری قمری کی طرح ہجری شمسی بھی ہونی چاہئے وہ کہتا ہے کہ خلفائے عباسیہ نے بھی ہجری شمسی تقویم بنانے کی کوشش کی مگر اس میں فلاں فلاں روک پیدا ہوگئی اسی طرح وہ لکھتا ہے کہ بعد میں دولت عثمانیہ نے بھی ہجری شمسی بنائی مگر رائج نہ ہوسکی ، غرض اُس نے تاریخی طور پر اس کتاب میں یہ بحث کی ہے کہ مسلمانوں میں یہ خیال کب پیدا ہوا اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے کیا کیا کوششیں ہوئیں اور کیا کیا نقائص ہوتے رہے۔بہر حال یہ خیال مسلمانوں میں دیر سے پایا جاتا ہے بلکہ اس حد تک یہ خیال مضبوطی سے گڑا ہوا معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب کا مصنف کتاب کا نام محض تقویم شمسی نہیں رکھتا بلکہ تَقْوِيْمُنَا الشَّمْسِيُّ “ رکھتا ہے یعنی ہماری اپنی شمسی ہجری تقویم۔میرا رادہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آئندہ عیسوی شمسی سن کی بجائے ہجری شمسی سن جاری کیا جائے اور عیسوی سن کے استعمال کو ترک کر دیا جائے میرا ارادہ ہے کہ ایک دو مہینہ تک اس بارہ میں پوری تحقیق کر کے ہجری شمسی سن جاری کر دیا جائے اور آئندہ کے لئے عیسوی سن کا استعمال چھوڑ دیا جائے ، خواہ مخواہ عیسائیت کا ایک طوق ہماری گردنوں میں کیوں پڑا رہے ی تحقیق میری مقرر کردہ ایک کمیٹی نے مکمل کر کے تقویم شمسی ہجری تیار کر دی ہے اور دو سال سے اس کا کیلنڈ رشائع ہورہا ہے ) نظام شمسی کا تمدنی ترقی سے تعلق (۲) قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ نظام کشی ایک خاص قانون کے ماتحت ہے اور اس کا قانون انسانی کاموں کیلئے بطور ایک نمونہ کے مقرر کیا گیا ہے اور اس سے انسان کی تمدنی ترقی کیلئے ایک ہدایت اور راہنمائی حاصل ہوتی ہے فرماتا ہے۔الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ والنّجمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَنِ وَالسَّمَاء رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ - الَّا تَطْغَوا في الميزان - وأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِیزان کے سورج اور چاند دونوں ایک حساب کے ماتحت کام کر رہے ہیں یعنی ان کی حرکات قانون سے آزاد نہیں ہیں بلکہ ایک معتین اور مقررہ قانون کے مطابق ہیں اور اسی مقررہ قانون کا نتیجہ یہ ہے کہ زمین کی روئیدگی اور سبزہ اس قانون کے ماتحت چلتا ہے اور اس سے متاثر ہوتا ہے۔سجدہ کے معنے فرمانبرداری کے بھی ہوتے ہیں اور یسجدن کے اس جگہ یہی معنے ہیں اور تجھہ کے معنے جڑی بوٹی کے بھی ہوتے ہیں اور وہی معنے اس جگہ مراد ہیں کیونکہ شجر کے ساتھ جس کے معنے