انوارالعلوم (جلد 15) — Page 314
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) سے ایک جلتی ہوئی آگ ہے اور اسی وجہ سے وہ روشن ہے۔اب دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے صرف سراج کے لفظ میں ہی آج سے تیرہ سو سال پہلے وہ نکتہ بتا دیا تھا جسے تیرھویں صدی ہجری میں یورپین محققین نے دریافت کیا اور بتا دیا تھا کہ سورج کی روشنی ذاتی ہے اور چاند کی طفیلی جس طرح دیے کی بتی جلتی ہے اسی طرح سورج میں ایک ایسی آگ ہے جس کی وجہ سے وہ ہر وقت روشن رہتا ہے مگر چاند میں ایسی کوئی روشنی نہیں وہ جو کچھ حاصل کرتا ہے سورج سے حاصل کرتا ہے اسی لئے سورج کو تو سراج کہا مگر چاند کونور قرار دیا۔(۴) چوتھی بات قرآن کریم سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ سورج اور چاند کی بناوٹ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ آخر یہ بھی فنا ہو جائیں گے، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الله الذي رفع السموتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوى عَلَى الْعَرْشِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ و القمر كُلَّ يَجْرِي لاَجَلٍ مُسَمًّى ٤٠ که خدا ہی ہے جس نے آسمانوں کو بغیر کسی ستون کے بلند کیا۔پھر وہ عرش پر جاگزیں ہو گیا اور اُس نے سورج اور چاند کو انسانوں کی خدمت کے لئے مقرر کر دیا، ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے دائرہ میں حرکت کر رہا ہے مگر یہ تمام حرکات لاجل تُسمَّی ایک وقت مقررہ تک ہیں ، جب مقررہ وقت ختم ہو گیا تو اس کے بعد ان پر تباہی آ جائے گی ، آجکل اہل یورپ کی تحقیقات سے بھی یہی ثابت ہوا ہے کہ یہ تمام چیزیں ایک دن تباہ ہو جائیں گی، پہلے یورپین لوگ قیامت کے منکر ہوا کرتے تھے اور وہ اسلام کے اس عقیدہ کو تسلیم نہیں کرتے تھے کہ کسی دن تمام کارخانہ عالم درہم برہم ہو جائے گا اور سورج ، چاند اور ستارے سب فنا ہو جائیں گے مگر موجودہ تحقیق سے وہ اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ستاروں، چاند اور سورج کی گردش ایک دن یقیناً ٹوٹ جائے گی اور دنیا پر قیامت آ جائے گی اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں یہی فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو تمہارے لئے مستخر تو کیا ہے مگر ان تمام کی رفتار میں ایک دن ختم ہونے والی ہیں یہ نہیں کہ یہ کوئی دائمی چیز ہیں۔سورج اور چاند کا حساب اور تاریخ سے تعلق (۵) پھر میں نے یہ معلوم کرنا چاہا کہ ان رصد گاہوں سے جو حساب وغیرہ نکالتے ہیں کیا یہ صیح ہے اور کیا قرآنی رصد گاہ میں اس کو تسلیم کیا گیا ہے ؟ میں نے جب غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ قرآن اِس بات کو بھی تسلیم کرتا ہے اور وہ فرماتا ہے کہ سورج اور چاند یہ دونوں حساب اور تاریخ بتانے کے لئے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هُوَ الَّذِي