انوارالعلوم (جلد 15) — Page 277
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) نفسِ واحدہ سے پیدائش کی حقیقت حقیقت یہ ہے کہ خَلَقَكُمْ مِّن نَّفْسٍر واحدة سے مراد صرف یہ ہے کہ ایک ایک انسان سے قبائل و خاندان چلتے ہیں اور بیوی اسی میں سے ہونے کے معنے اسی کی جنس میں سے ہونے کے ہیں اور بتایا ہے کہ ایک ایک آدمی سے بعض دفعہ خاندان کے خاندان چلتے ہیں اگر ماں باپ مشرک ہوں تو قبیلے کے قبیلے گندے ہو جاتے ہیں اور اگر وہ نیک ہوں تو نسلاً بعد نسل ان کے خاندان میں نیکی چلتی جاتی ہے۔پس هُوَ الذي خَلَقَكُمْ مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وجعل منها زوجها اور اسی طرح کے دوسرے الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ اے مرد و! جب تم شادی کرو تو احتیاط سے کام کیا کرو، اور جب میاں بیوی آپس میں ملیں تو اُس وقت بھی وہ احتیاط سے کام لیا کریں، اگر وہ خود مشرک اور بدکار ہونگے تو نسلوں کی نسلیں شرک اور بدکاری میں گرفتار ہو جائیں گی اور اگر وہ خود موحد اور نیکی و تقویٰ میں زندگی بسر کرنے والے ہو نگے تو نسلوں کی نسلیں نیک اور پارسا بن جائیں گی۔ان معنوں کے بعد اگر آدم پر بھی ان آیات کو چسپاں کیا جائے تو بھی یہی معنے ہونگے کہ آدم کی بیوی اسی کی جنس میں سے تھی۔یعنی طینی طبیعت کی تھی ناری طبیعت کی نہ تھی اور ممکن ہے اس صورت میں ادھر بھی اشارہ ہو کہ آدم کو حکم تھا کہ صرف مؤمنوں سے شادی کریں غیروں سے نہیں۔جب یہ ثابت ہو گیا کہ آدم کے وقت میں اور مرد و عورت بھی تھے اور آدم کی بیوی انہی میں سے تھی یعنی وہ آدم کی ہم مذہب تھی تو وہ سوال کہ آدم کی اولا د شادیاں کس طرح کرتی ہو گی ؟ آپ ہی آپ دُور ہو گیا۔جب مرد بھی تھے عورتیں بھی تھیں تو شادیوں کی دقت نہیں ہو سکتی تھی ، ہاں اگر اس سے پہلے کا سوال ہو تو آدم سے پہلے بشر تو شریعت کے تابع ہی نہ تھے، نہ وہ شادی کے پابند تھے نہ کسی اور امر کے۔کیونکہ وہ تو نظام سے آزاد تھے اور جب وہ نظام سے آزاد تھے تو ان کے متعلق کوئی بحث کرنی فضول ہے۔بحث تو صرف اس شخص کے متعلق ہوسکتی ہے جو شریعت کا حامل ہوا اور عقل مدنی اُس میں پیدا ہو چکی ہو ، اور ایسا پہلا وجودا بوالبشر آدم کا تھا اور ان کے بعد ان کے اتباع کا وجود تھا ان کے لئے اخلاق وشریعت کی پابندی لازمی تھی۔ان سے پہلے انسان نیم حیوان تھا اور ہر اعتراض سے بالا اور ہر شریعت سے آزاد۔عورت کے پسلی سے پیدا ہونے کا مفہوم اب میں اس حدیث کو لیتا ہوں جس میں یہ ذکر آتا ہے کہ عورت پسلی سے پیدا