انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 276

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) ربَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا ٣ کہ اے انسانو! اپنے اُس رب کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُس سے اُس کی بیوی کو بنایا۔ان الفاظ میں آدم اور اس کی بیوی کا کوئی ذکر ہی نہیں صرف خَلَقَكُم مِّن نَّفْسِ واحدة کے الفاظ آتے ہیں مگر ان کا مفہوم بھی جیسا کہ میں آگے چل کر بتاؤں گا اور ہے ، بہر حال آدم اور حوا کا یہاں کوئی ذکر نہیں۔یہی حال سورہ اعراف اور سورہ زمر کی آیات کا ہے ان میں بھی خَلَقَكُمْ مِّن نَّفْس واحدۃ کے الفاظ ہیں۔آدم کے الفاظ نہیں ، مگر ان تینوں آیات میں سے جو ہم معنی ہیں سورۃ اعراف کا حوالہ اس بات کو وضاحت سے ثابت کرتا ہے کہ اس سے مراد عام انسان ہیں نہ کہ آدم ، کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هُوَ الذي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إلَيْهَا فَلمَّا تَخَشُهَا حَمَلَتْ حَمْاً خفيفًا فَمَرَّتْ بِهِ فَلَمَّا انْقَلَتْ دعوا الله ربِّهُمَا لَئِنْ أتَيْتَنَا صَالِحًا تَتَكُونَنَّ مِنَ الشَّكِرِينَ فَلَمَّا الهما صَالِحًا جَعَلا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا الهُمَا فَتَعَلَ الله عَمَّا يُشركون ۳ فرماتا ہے۔وہ خدا ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اُس سے اُس کی بیوی کو پیدا کیا تا کہ اُس سے تعلق رکھ کر وہ اطمینان اور سکون حاصل کرے، جب اُس نفس واحد نے اپنی بیوی سے صحبت کی تو اُسے ہلکا سا حمل ہو گیا مگر جب اس کا پیٹ بھاری ہو گیا اور دونوں کو معلوم ہو گیا کہ حمل قرار پکڑ گیا ہے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دُعا کی الہی ! اگر تو نے ہمیں تندرست اور خوبصورت بچہ عطا کیا تو ہم تیرے ہمیشہ شکر گزار رہیں گے مگر جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اچھا اور تندرست بچہ دیدیا تو وہ اللہ تعالیٰ کو بھول گئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کا بعض اور لوگوں کو شریک بنالیا اور اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دُور تر چلے گئے۔اب بتاؤ کیا ان الفاظ میں آدم اور حوا کا ذکر ہے یا عام انسانوں کا۔کیا آدم اور حوا نے پہلے یہ دعا کی تھی کہ ہمیں ایک صالح لڑکا عطا فرمانا اور جب وہ پیدا ہو گیا تو انہوں نے مشرکانہ خیالات کا اظہار کیا اور وہ بعض ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دینے لگ گئے؟ انہوں نے ہرگز ایسا نہیں کیا اور آدم جو اللہ تعالیٰ کے نبی تھے ایسا کر ہی نہیں سکتے تھے۔پس صاف پتہ لگتا ہے کہ یہاں آدم کا ذکر نہیں بلکہ آدمی کا ذکر ہے اور انسانوں کے متعلق ایک قاعدہ کا ذکر ہے کسی خاص آدمی کا بھی ذکر نہیں اور چونکہ سب آیات کے الفاظ ایک سے ہیں اس لئے معلوم ہوا کہ سب جگہ ایک ہی معنے ہیں۔