انوارالعلوم (جلد 15) — Page 272
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) بنا کر اس کے قومی کو مضبوط کرتے ہیں ، پھر اور بڑھا کر اُسے بڑھا کر دیتے ہیں پس یہاں خَلَقَكُم مِّن ضعیف سے مراد بچے کے قومی کی کمزوری اور اُس کی دماغی طاقتوں کا ضعف ہے اور اُس سے مراد یہ ہے کہ اس کی طبیعت میں کمزوری ہوتی ہے نہ یہ کہ کمزوری کوئی مادہ ہے جس سے وہ پیدا ہوتا ہے۔اِن دونوں آیتوں سے خُلق منہ کے معنے بالکل واضح ہو جاتے ہیں اور انہی معنوں میں ابلیس اللہ تعالیٰ کو خطاب کر کے کہتا ہے کہ انا خَيْرُ مِنْهُ : خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طين - اے اللہ ! تو نے میری طبیعت میں تو آگ کا مادہ رکھا ہے اور اُس میں طین کا۔یعنی تو نے میری طبیعت تو ناری بنائی ہے اور آدم کی طینی ، یہ تو غلام فطرت ہے اور یہ تو ممکن ہے دوسرے کی بات مان لے لیکن میں جو ناری طبیعت رکھتا ہوں دوسرے کی غلامی کس طرح کر سکتا ہوں۔آنا خير منہ کا مطلب یہ ہے میں تو حُر ہوں دوسرے کی غلامی نہیں کر سکتا یہی آنا خير منہ کا دعوی ہے جو آجکل انارکسٹ وغیرہ کرتے رہتے اور کہتے ہیں ہم سے دوسرے کی غلامی برداشت نہیں ہو سکتی ہم تو بغاوت کریں گے اور دوسرے کی غلامی کو بھی برداشت نہیں کریں گے۔دنیا پر نگاہ دوڑا کر دیکھ لو آج بھی تمام دنیا میں آنا خير منہ کے نعرے لگ رہے ہیں۔انہی معنوں میں ابلیس اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ اے اللہ ! تو نے مجھے ناری طبیعت بنایا ہے اور آدم کی طبیعت طینی ہے۔مجھے تو کوئی بات کہے تو آگ لگ جاتی ہے میں تو آدم کی طرح دوسرے کی بات کبھی مان نہیں سکتا۔اُردو میں بھی یہ محاورہ استعمال ہوتا ہے کہتے ہیں فلاں شخص تو آگ ہے۔اب اس کے یہ معنے تو نہیں ہوتے کہ اس کے اندر کوئی دیا جل رہا ہوتا ہے یا آگ کے شعلے اُس کے منہ سے نکل رہے ہوتے ہیں؟ مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کی بات مان نہیں سکتا۔اُسے کوئی نصیحت کی جائے تو آگ لگ جاتی ہے۔انگریزی میں بھی کہتے ہیں کہ فلاں شخص ”فائر برینڈ (FIREBRAND) ہے مطلب یہ کہ وہ شرارتی آدمی ہے حالانکہ اس کے لفظی معنے یہ ہیں کہ جو چیز جل رہی ہو۔مگر مفہوم یہ ہے کہ فلاں شخص ایسا شرارتی ہے کہ ہر جگہ آگ لگا دیتا ہے۔یہی معنے اس آیت کے بھی ہیں اور ابلیس کہتا ہے کہ خدایا! میری طبیعت اطاعت کو برداشت نہیں کر سکتی۔دنیا میں بھی روزانہ ایسے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں۔ایک شخص کی دوسرے سے لڑائی ہو جاتی ہے تو بعض لوگ چاہتے ہیں ان کی آپس میں صلح ہو جائے۔اب ایک شخص تو صلح کے لئے تیار ہوتا ہے مگر دوسرے کو