انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 271

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) سے ، تو جب ان کی پیدائش مختلف اشیاء سے ہے تو وہ ایک کس طرح ہو گئے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب قرآن سے یہ بات ثابت ہے کہ دونوں ایک جگہ رہیں گے ، ایک ہی جگہ مریں گے ، ایک ہی زمین میں دفن ہونگے اور دونوں کی طرف خدا تعالیٰ کے انبیاء آئیں گے جن کو قبول کر کے بعض دفعہ شیطان کی اولاد آدم کی اولاد بن جائے گی اور انکار کر کے آدم کی اولا د شیطان کی اولاد بن جائے گی تو پھر وہی معنے اس آیت کے درست ہونگے جو دوسری آیات کے مطابق ہوں۔سو ہم دیکھتے ہیں کہ ان معنوں کو ترک کرتے ہوئے جو عام لوگ اس آیت کے سمجھتے ہیں ایک اور معنے بھی بن سکتے ہیں جن سے یہ آیت باقی تمام آیات کے مطابق ہو جاتی ہے اور قرآن کریم کی کسی آیت میں اختلاف نہیں رہتا۔عربی زبان کا ایک محاورہ عربی زبان کا ایک محاورہ ہے جو قرآن کریم میں بھی استعمال ہوا ہے کہ خلق منه اِس سے یہ مراد نہیں ہوتا کہ فلاں شخص فلاں مادہ سے بنا ہے بلکہ اس سے یہ مراد ہوتا ہے کہ یہ امر اس کی طبیعت میں داخل ہوتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں یہ محاورہ سورۃ انبیاء میں استعمال ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔خلق الإنسَانُ مِن عَجَلٍ سأور يكُمُ التي فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ ٨ کہ انسان جلدی سے پیدا کیا گیا۔اب جلدی کوئی مادہ نہیں ہے جسے گوٹ کوٹ کر اللہ تعالیٰ نے انسان بنا دیا ہو، بلکہ یہ ایک محاورہ ہے جو استعمال ہوا اور اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان بہت جلد باز ہے اور اس کی فطرت میں جلد بازی کا مادہ رکھا گیا ہے۔جب پیشگوئیاں ہوتی ہیں تو کئی لوگ اس گھبراہٹ میں کہ نہ معلوم یہ پیشگوئیاں پوری ہوں یا نہ ہوں ، مخالفت کرنے لگ جاتے ہیں اور کہنے لگ جاتے ہیں کہ یہ جھوٹا ہے یہ جھوٹا ہے۔اللہ تعالیٰ اسی امر کا اس جگہ ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ساوريكم التي فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ تم ہمارے انبیاء کی پیشگوئیاں سنتے ہی اُسے جھوٹا جھوٹا کیوں کہنے لگ جاتے ہو؟ تم جلدی مت کرو ہماری پیشگوئیاں بہر حال پوری ہو کر رہیں گی۔اسی طرح قرآن کریم میں ایک اور جگہ بھی یہ محاورہ استعمال کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الله الَّذِي خَلَقَكُم مِّن ضُعْفِ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُعْفًا وَشَيْبَةٌ ٢٩ کہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ضعف سے پیدا کیا۔اب بتاؤ کہ کیا ضعف کوئی مادہ ہے؟ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ انسان کی طبیعت میں کمزوری ہوتی ہے چنانچہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے فطری طور پر سخت کمزور ہوتا ہے۔پھر ہم بچے کو جوان