انوارالعلوم (جلد 15) — Page 252
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) ہیکل کا نظریہ انسانی پیدائش کے متعلق ہیکل کے ایک اور مفکر ہے وہ ڈارون کے اس فلسفہ پر غور کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ وہ جانور جو ہمیں نہیں ملتا اُس کا نام لیپوٹائیلو (LIPOTYLU) ہے۔یہ جانور درمیان میں سے غائب ہو گیا ہے اگر بیل جائے تو وہ کڑی جو درمیان سے ٹوٹتی ہے مکمل ہو جائے اور انسانی ارتقاء کے مسئلہ میں کوئی بات مہم نہ رہے۔اس قسم کے اکثر مفکر گوریلا اور چمپنزی (CHIMPANZEE) قسم کے بندروں کے آباء کو انسانی نسل کے آباء قرار دیتے ہیں۔جب ڈارون نے انسانی پیدائش کے متعلق یہ فلسفہ پیش کیا تو انگریزوں میں سے ہی بعض نے اس فلسفہ پر اعتراض کیا اور کہا کہ انسان اور گوریلا میں اس قدر اختلاف ہے کہ اس کی موجودگی میں کسی صورت میں بھی یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ گوریلا وغیرہ اقسام کے بندروں کے آباء ہی انسانی نسل کے آباء تھے اس پر ہکسلے نے انہی اختلافات کو جو انسان اور گوریلا میں ہیں اور جو پہلے ارتقاء کے خلاف پیش کئے جاتے تھے ارتقاء کے ثبوت میں پیش کر دیا اس طرح کہ اُس نے کہا کہ جو اختلاف انسان اور گوریلا میں ہے اس سے بہت زیادہ اختلاف گوریلا اور بعض دوسری قسم کے بندروں میں ہے، اب بتاؤ کہ اس اختلاف کے باوجود تم ان سب کو بندر مانتے ہو یا نہیں؟ جب مانتے ہو تو اگر ارتقاء میں بعض بندر بعض دوسرے بندروں سے اس قدر دُور جا سکتے ہیں تو کیوں انسان گوریلا سے دُور نہیں جاسکتا۔پس یہ اختلاف ارتقاء کے خلاف نہیں بلکہ اس کا ایک ثبوت ہے۔스 موجودہ زمانہ کی تحقیق موجودہ تحقیق جو قریب زمانہ میں ہوئی ہے اور جس کے مؤید ایک تو پروفیسر جونز ہیں اور ایک ڈاکٹر آسبرن ، وہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ گوانسان نے ارتقائی قانون کے ماتحت ہی ترقی کی ہے مگر وہ حیوانات کی نسل سے بہت پہلے سے جدا ہو چکا تھا اور اُس وقت سے آزادانہ ترقی کر رہا تھا۔گویا انسان کی جانوروں سے جُدائی اُس بندر سے نہیں ہوئی جس بندر سے جُدائی ڈارون پیش کرتا ہے بلکہ اس سے بہت پہلے ہو چکی تھی مگر بہر حال انسانی ترقی ارتقاء کے ماتحت ہوئی ہے یکدم نہیں ہوئی۔انسانی تہذیب کے تین بڑے دور اس کے ساتھ ہی آثار قدیمہ والوں نے یہ دریافت کیا ہے کہ انسانی تہذیب پر تین دور آئے ہیں۔