انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 251

انوارالعلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) موجودہ انسانی جسم کی ہڈیوں میں بہت بڑا فرق ہے۔اسی طرح موجودہ انسانی دماغ اور پرانے انسانی دماغ میں بھی بہت بڑا فرق نظر آتا ہے پس مختلف زمانوں کے انسانوں کی کھوپڑیوں اور جسم کی ہڈیوں کا اختلاف اس امر کا یقینی اور قطعی ثبوت ہے کہ انسان ارتقائی قانون کے ماتحت بنا ہے یکدم اپنی موجودہ حالت کو نہیں پہنچا۔دوسری دلیل اس فلسفہ کے معتقد اس ارتقاء کی یہ دیتے ہیں کہ ماں کے پیٹ میں جب جنین کی ترقی کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس جنین کو اپنی ابتدائی حالتوں میں مختلف قسم کے جانوروں سے مشابہت ہوتی ہے۔کبھی وہ جنین خرگوش سے مشابہہ ہوتا ہے۔کبھی مچھلی سے مشابہ ہوتا ہے اور کبھی کسی اور جانور سے۔یہ رحم مادر میں بچے کی پیدائش کی مختلف کیفیات دراصل ابتدائے خلق کی ہی کیفیات ہیں۔یعنی پچھلے زمانہ میں جن جن جانوروں کی شکل میں سے انسان گزرا ہے، ان ساری شکلوں میں سے ایک بچے کو رحم مادر میں سے گزرنا پڑتا ہے۔تیسری دلیل اس ارتقاء کی یہ دی جاتی ہے کہ انسان اور دوسرے جانوروں میں ایسی کئی مشابہتیں پائی جاتی ہیں جو اس امر کو ثابت کرتی ہیں کہ یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں اور انسان کو جسم اپنی منفردانہ حیثیت میں نہیں ملا بلکہ جانوروں کے جسم سے ترقی کر کے اُسے ایک اور جسم حاصل ہوا ہے۔کہا جاتا ہے کہ اس امر کے ثبوت کے لئے گوریلا وغیرہ قسم کے بندروں کو دیکھ لیا جائے اُن کی انسان سے اتنی شدید مشابہت ہے کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ الگ بنے ہیں اور یہ الگ، گویا ارتقاء کی تیسری دلیل وہ مشابہتیں دیتے ہیں جو انسان کو بعض دوسرے جانوروں سے اور دوسرے جانوروں کو آپس میں یا اپنے سے نیچے کے جانوروں سے ہیں۔دوسرا دعوی ڈارون نے یہ کیا تھا کہ انسان اور بندر کا ارتقاء ایک جانور سے ہوا ہے جواب مفقود ہے۔اس کے ثبوت میں وہ یہ امر پیش کرتا ہے کہ بندروں کی بعض اقسام کو انسان سے انتہائی مشابہت ہے مگر وہ کہتا ہے کہ درمیان میں ایک کڑی غائب ہو گئی ہے اور اس مفقودکڑی کا ثبوت وہ فاصلہ ہے جوطبعی طور پر بندروں کی موجودہ قسم اور انسان میں ، اور بندروں اور ان سے ادنیٰ قسم کے جانوروں میں نہ پایا جانا چاہئے تھا مگر چونکہ ہمیں ایک طرف بندروں اور انسان میں انتہائی مشابہت نظر آتی ہے اور دوسری طرف بندروں اور ان سے نچلے درجہ کے جانوروں میں ایک فاصلہ نظر آتا ہے جو طبعی طور پر نہیں پایا جانا چاہئے تھا اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ درمیان میں سے کوئی کڑی غائب ہو گئی ہے جس سے انسان اور بندر نے ترقی کر کے اپنی موجودہ شکل کو اختیار کیا تبھی یہ زنجیر مکمل نہیں بنتی۔