انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 247

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) میں بالکل بے حقیقت بنا دیا کیونکہ وہ ان سے بہت پرانے ، بہت وسیع ، بہت متنوع اور بہت ہی مفید تھے۔اب میں اس آثار قدیمہ کے دفتر میں آپ کو بھی لے جاتا ہوں اور اس کی ایک دریافت اور تحقیق کو کسی قدربسط سے آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور بعض کو اختصار سے پیش کرتا ہوں۔یہ امر ظاہر ہے کہ انسانی آثار میں سے سب سے پرانے آثار وہی ہیں جو انسان کی ابتدائی پیدائش اور اس کے ابتدائی کاموں سے تعلق رکھتے ہیں اس کے علاوہ کوئی بھی آثار ہوں خواہ وہ ہزاروں سال کے ہوں بہر حال بعد ہی کے ہوں گے اور آثار قدیمہ کے نقطہ نگاہ سے گھٹیا قسم کے۔پس میں اس محکمہ کی ایسی ہی تحقیقات کو آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔اس محکمہ آثار قدیمہ کا نام ہے قرآن اور اس کے انچارج کا نام ہے محمد صلی الله علیه وسلم۔اس محکمہ میں جو آثار قدیمہ میں نے سب سے پہلے زمانے کے دیکھے اور جن کی گرد کو بھی موجودہ آثارقدیمہ نہیں پہنچتے ، ان کی ایک مثال ذیل میں میں پیش کرتا ہوں۔نیا کس طرح پیدا ہوئی ؟ لوگ حیران ہیں کہ دُنیا کس طرح پیدا ہوئی ؟ پہلا انسان کون تھا ؟ وہ کس تمدن پر عمل پیرا تھا ؟ وہ کس طرح اس دنیا۔میں پیدا ہوا؟ اور اُس نے کس طرح اس دنیا کو چلایا ؟ میں نے قرآن کریم کا درس دیتے وقت ہمیشہ دیکھا ہے ، مشکل سے مشکل آیت کا میں مفہوم بیان کر رہا ہوتا ہوں تو لوگ بڑے مزے سے اُسے سنتے رہتے ہیں ، مگر جہاں آدم اور شیطان کا قصہ آیا سوالات کی مجھ پر یوں بھر مار شروع ہو جاتی ہے کہ میں خیال کرتا ہوں آدم کے بچے مجھے نوچ نوچ کر کھا جائیں گے اور ان کی خواہش یہ ہے کہ جلد سے جلد انہیں ان کے ابا جان کی گود میں بٹھا آؤں تو لوگوں کے دلوں میں آدم والے واقعہ کے متعلق بے انتہاء جستجو پائی جاتی ہے۔وہ سوچتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا کیا کھاتے تھے، کیا پہنتے تھے ، کہاں رہتے تھے ؟ اور یہ صرف مسلمانوں میں ہی نہیں بلکہ تمام مذاہب کے لوگوں میں جستجو پائی جاتی ہے۔ہندوؤں کا نظریہ انسانی پیدائش کے متعلق ہندوؤں کی تو ساری میتھالوجی اور ان کی ساری بحثیں ہی دنیا کی پیدائش پر ہیں کہیں لکھا ہے کہ برہما جی نہانے گئے تو اُن کی جٹا میں سے جو قطرے گرے اُس سے گنگا بہہ نکلی ، کہیں دنیا کی پیدائش کا ذکر آتا ہے تو اس رنگ میں کہ فلاں دیوتا کی فلاں سے لڑائی ہوئی ، دوسرا