انوارالعلوم (جلد 15) — Page xxiv
انوار العلوم جلد ۱۵ صورت میں شائع ہورہا ہے۔تعارف کتب اس خطاب میں حضور نے سب سے پہلے شیخ عبد الرحمن مصری اور ان کے ساتھیوں کی ایک اشتعال انگیز حرکت کا ذکر فرمایا۔جس کے بعد سلسلہ کے اخبارات کے بارہ میں بعض ہدایات فرمائیں۔نیز تعلیم و تربیت، اچھوتوں میں تبلیغ اور مغربی کھیلوں کی بجائے دیسی کھیلوں کو رائج کرنے کے بارہ میں ارشادات فرمائے۔اسی طرح تحریک جدید کے ماتحت ۵ هزار مبلغ تیار کرنے ، ہجری سمسی کیلنڈر کے بارہ میں ارشادات اور ہدایات نیز سال میں ہر احمدی کو ایک بیعت کروانے ، لڑکیوں کو ورثہ دینے جیسی تحریکات اس خطاب میں شامل ہیں۔اس خطاب کے آخر پر حضور نے اصلاح اعمال کا ایک لطیف گر بیان کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی اس نصیحت کی طرف توجہ دلائی جو آپ نے حجتہ الوداع کے موقع پر فرمائی کہ ہر مسلمان کی جان، اُس کا مال اور اُس کی عزت خدا کے حضور وہی مقام رکھتی ہے جو حج کا دن رکھتا ہے، جو ذوالحجہ رکھتا ہے اور جو مکہ ومکرمہ رکھتا ہے اور اس سلسلہ میں آنحضرت ﷺ نے تحریک فرمائی کہ:۔,, جو یہ حدیث سنے اُسے دوسروں تک پہنچا دے“۔اس وصیت کے بارہ میں فرمایا کہ یہ وصیت قومی تربیت و اتحاد اور اعلیٰ اخلاق کے حصول کا ایک سنہری و نایاب گر ہے۔وہ نصیحت یا وصیت یہ ہے کہ اے مسلمانو! خانہ کعبہ، ایام حج اور ماہِ حج کی جو عزت و حرمت تمہارے دلوں میں ہے وہی عزت تمہیں ادنیٰ سے ادنی مومن کے جان و مال اور عزت کی کرنی چاہئے۔اپنے اس اہم خطاب کے آخر میں آپ نے فرمایا:۔اگر مسلمان یہ حدیث ایک دوسرے کو پہنچاتے رہتے تو ان کے دلوں میں ایسی نرمی ، محبت ، دیانت اور تقویٰ پیدا ہو جاتا کہ وہ اپنے کسی بھائی کو نہ ستاتے۔نہ اس کی جان پر حملہ کرتے نہ اُس کے مال پر حملہ کرتے ، نہ اُس کی آبرو پر حملہ کرتے۔اور اگر کوئی منہ پھٹ کبھی حملہ کر بیٹھتا تو دوسرا اُسے یاد دلا دیتا کہ میاں ! کیا کرنے لگے ہو۔تم خانہ کعبہ پر حملہ کرتے ہو، تم ذوالحجہ پر حملہ کرتے ہو ، تم حج کے دن پر حملہ کرتے ہو۔کیا اتنے مقدس مقامات پر حملہ کرتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی ؟ اور یقیناً اس کے بعد وہ