انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 190

انوار العلوم جلد ۱۵ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امن عالم کس کو امن حاصل ہوگا۔ان كُنتُمْ تَعْلَمُونَ اگر تم حماقت کی باتیں نہ کرو اور عقل و خرد سے کام الله لو تو تم سمجھ سکتے ہو کہ کون مامون ہے اور کون غیر مامون۔اس جگہ امن کے قیام کیلئے اللہ تعالیٰ نے دو عظیم الشان گر بیان کئے ہیں۔اول یہ کہ توحید کامل کے قیام کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا کیونکہ جب تک تو حید قائم نہ ہوگی اُس وقت تک لڑائیاں جاری رہیں گی۔شرک کا صرف اتنا ہی مفہوم نہیں ہوگا کہ کوئی ایک کی بجائے تین خداؤں کا قائل ہو بلکہ جب بار یک در بار یک رنگ میں شرک شروع ہوتا ہے تو کئی کئی قسم کا شرک نظر آنے لگ جاتا ہے اس کے علاوہ جب مختلف مذاہب کی تعلیمیں مختلف ہیں ، ان کے خیالات مختلف ہیں تو اس حالت میں امن اُس وقت تک قائم ہی نہیں ہو سکتا جب تک لوگوں کے اندر حقیقی مؤاخات پیدا نہ ہو اور حقیقی مؤاخات ایک خدا کے بغیر نہیں ہو سکتی۔دنیا میں اس بات پر تو لڑائیاں ہو جاتی ہیں کہ ایک کہتا ہے میرا دادا فلاں عظمت کا مالک تھا اور دوسرا کہتا ہے کہ میرا دادا ایسا تھا مگر کبھی تم نے بھائیوں کو اس بات پر لڑتے نہیں دیکھا ہوگا کہ ایک دوسرے کو کہے میں شریف النسب ہوں اور تم نہیں۔اسی طرح جب دنیا میں توحید کامل ہوگی تبھی اس قسم کی لڑائیاں بند ہونگی۔پس اخوت و مساوات کا جو سبق تو حید سے حاصل ہوتا ہے اور کسی طرح حاصل نہیں ہوسکتا۔چنانچہ رسول کریم ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم کے متعلق دشمن بھی یہ اقرار کرتا ہے کہ اخوت کا جو سبق آپ نے دیا وہ کسی اور نے نہیں دیا۔حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوت کا سبق الگ کر کے نہیں دیا بلکہ آپ نے اصل میں تو حید کا سبق دیا جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں اخوت پیدا ہوگئی۔مثلاً جب میں نماز میں کہوں الحمد لله رب العلمين " سب تعریف اُس اللہ کی ہے جو عیسائیوں کا بھی رب ہے، ہندوؤں کا بھی رب ہے اور یہودیوں کا بھی رب ہے تو میرے دل میں ان قوموں کی نفرت کس طرح ہو سکتی ہے کیونکہ میں رب العلمین کے لفظ کے نیچے تمام قوموں ، تمام نسلوں اور تمام مذہبوں کو لے آتا ہوں۔میں جب نماز میں الحمد لله رب العلمین کہتا ہوں تو دوسرے الفاظ میں میں یہ کہتا ہوں کہ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْمَذَاهِبِ كُتِهَا یعنی میں اُس خدا کی تعریف کرتا ہوں جو تمام مذاہب کا رب ہے۔اسی طرح جب میں الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ کہتا ہوں تو اس کے معنی یہ بھی ہوتے ہیں کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْأَقْوَامِ كُلَّهَا یعنی میں اُس خدا کی تعریف کرتا ہوں جو تمام اقوام کا رب ہے۔اسی طرح جب میں الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ کہتا ہوں تو اس کے یہ معنی بھی ہوتے ہیں کہ KNOWNLOAD لِلهِ رَبِّ الْبِلَادِ كُلِّهَا یعنی میں اُس خدا