انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 189

انوار العلوم جلد ۱۵ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امن عالم السلم خدا سے امن لا کر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کو دیا مگر بعض امن عارضی بھی ہوتے ہیں جن کے نیچے بڑی بڑی خرابیاں پوشیدہ ہوتی ہیں جیسے بخار کا مریض جب ٹھنڈا پانی پیتا ہے تو اُسے بڑا آرام محسوس ہوتا ہے مگر دومنٹ کے بعد یکدم اُس کا بخار تیز ہو جاتا ہے اور کہتا ہے آگ لگ گئی ہے۔پھر برف پیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ آرام آ گیا مگر یکدم پھر اُسے بے چینی شروع ہو جاتی ہے۔پس سوال ہو سکتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو امن دے رہے ہیں یہ عارضی ہے یا مستقل؟ اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے۔واللهُ يَدْعُوا الى دار السلم ، لے کہ دنیا فسادوں کی طرف لے جاتی ہے مگر محد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو تعلیم دی گئی ہے وہ موجودہ زمانہ کیلئے ہی نہیں بلکہ وہ ایک ایسا امن ہے جو مرنے کے بعد بھی چلتا چلا جاتا ہے اور جو اس دنیا کے بعد ایک ایسے گھر میں انسان کو پناہ دیتا ہے جہاں سلامتی ہی سلامتی ہے گویا یہ زنجیر ایک مکمل زنجیر ہے۔اس کے ماضی میں ایک سلام ہستی کھڑی ہے ، اس کے حال میں امن ہے کیونکہ ایک مدرسہ امن جاری ہو گیا ہے ایک مدرس امن خدا تعالیٰ نے بھیج کر امن کا کورس بھی مقرر کر دیا اور عملی طور پر ایک ایسی جماعت تیار کر دی جو اِذا خَاطَبَهُمُ الْجَهِلُونَ قَالُوا سلما کی مصداق ہے۔پس اس کے ماضی میں بھی امن ہے اور اس کے حاضر میں بھی امن ہے، پھر اس کے مستقبل میں بھی امن ہے کیونکہ واللهُ يَدْعُوا إلى دار السلم، مرنے کے بعد وہ انسان کو ایک ایسے جہان میں لے جائے گا جہاں سلامتی ہی سلامتی ہوگی پس یہ ساری زنجیر مکمل ہوگئی اور کوئی پہلو تشنہ تکمیل نہیں رہا۔اس کے بعد امن حقیقی کے قیام کے ذرائع کا سوال آتا ہے۔سو اس کے متعلق بھی قرآن کریم روشنی ڈالتا اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے فرماتا ہے وَكَيْفَ أَخَافُ مَا اشْرَكْتُمْ ولا تخافون انكم اشركتُ باللهِ مَا لَمْ يُنَزِّلُ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَنَا، فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ احق بالآمن : إن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ الے کہ میرے دل کا امن کس طرح برباد ہو جائے ان بتوں کو دیکھ کر جن کو تم خدائے واحد کا شریک قرار دے رہے ہو ولا تخافون انكم اشرككْتُمْ بِاللهِ مَا لَمْ يُنَزِّل به عَلَيْكُمْ سُلْطنا، حالانکہ تم اپنے دلوں میں جھوٹے طور پر مطمئن ہو اور خطرہ تمہارے ارد گرد ہے۔پس اگر تم عدم علم اور جہالت کے با وجود مطمئن ہوا اور تمہارا عدم علم تم کو امن دے سکتا ہے تو تم کس طرح سمجھ سکتے ہو کہ میرا کامل علم مجھے امن نہیں بخش سکتا۔فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالآمن ؟ تم بتاؤ کہ ان دونوں میں سے b