انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xix of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page xix

انوار العلوم جلد ۱۵ تعارف کتب اکتوبر ۱۹۳۸ ء کو حیدر آباد دکن کا دورہ کیا اور بعض تاریخی مقامات کی سیر کی۔علاوہ ازیں آپ نے دہلی ، آگرہ اور بمبئی وغیرہ کے بہت سارے تاریخی مقامات کی سیر کی اور آثار قدیمہ دیکھے جن میں نمایاں طور پر جامع مسجد دہلی ، قطب صاحب کی لاٹ ، دیوانِ عام ، جنتر منتر ، مقبرے، حوض خاص ، آگرہ کا تاج محل، قلعے، دیوانِ عام اور دیوان خاص وغیرہ شامل ہیں۔ان مقامات کی سیر کے دوران حضور پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوئی اور ایک عظیم انکشاف ہوا۔اس کیفیت کا ذکر حضور نے اپنے اِن الفاظ میں بیان فرمایا:۔وو سب عجائبات جو سفر میں میں نے دیکھے میری آنکھوں کے سامنے سے گزر گئے۔۔۔۔آخر وہ سب ایک اور نظارہ کی طرف اشارہ کر کے خود غائب ہو گئے۔میں اس محویت کے عالم میں کھڑا رہا ، کھڑا رہا اور کھڑا رہا۔اور میرے ساتھی حیران تھے کہ اس کو کیا ہو گیا ہے۔یہاں تک کہ مجھے اپنے پیچھے سے اپنی لڑکی کی آواز آئی میں اُس آواز کو سن کر پھر واپس اس مادی دنیا میں آ گیا۔مگر میرا دل اُس وقت رقت آمیز جذبات سے پُر تھا وہ خون ہو رہا تھا اور خون کے قطرے اس سے ٹپک رہے تھے۔۔۔۔۔میں نے افسوس سے اِس دنیا کو دیکھا اور کہا میں نے پالیا۔میں نے پالیا۔آپ پر یہ امر منکشف ہوا کہ ان دنیوی اور مادی نظاروں اور مقامات کے مقابل پر روحانی نظارے، روحانی مقامات مثلاً روحانی ،مساجد، روحانی سمندر، روحانی جنتر منتر ، قلع، مقبرے، باغات اور روحانی بلند مینار، دیوان عام دیوان خاص اور روحانی نہریں موجود ہیں جو اپنی شان و شوکت، عظمت روحانی اور جلال و جمال، خوبصورتی اور پائیداری میں کہیں بڑھ کر ہیں مگر دنیا ان سے بے خبر ہے چنانچہ اس انکشاف کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔یہ امور تفصیلاً یا ا جمالاً اُس وقت میرے ذہن میں آئے اور پھر میرے دل نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا یہ تیری زندگی کا بہترین تجربہ ہے؟ کیا ان سے بڑھ کر ایسی ہی چیزیں تو نے نہیں دیکھیں؟ اس سوال کے پیدا ہوتے ہی وہ تمام نظارے جو میری آنکھوں کے سامنے تھے غائب ہو گئے اور ایک اور نظارہ میری آنکھوں کے سامنے آ گیا اور ایک نئی دنیا میری آنکھوں کے سامنے سے گزرنے لگ گئی۔میں اس نئی دنیا کے آثار قدیمہ کو دیکھنے میں مشغول ہوا تو میں نے ایسے عظیم الشان آثار قدیمہ دیکھے دو