انوارالعلوم (جلد 15) — Page xvii
انوار العلوم جلد ۱۵ تعارف کتب (۱۰) تربیت اولاد کے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے یہ تربیتی تقر بر مؤرخہ ۲۷ / دسمبر ۱۹۳۸ء کو جلسہ سالانہ قادیان میں مستورات کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمائی جس میں احمدی خواتین کو تربیت اولاد کے حوالے سے ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔آپ نے اپنی اس تقریر میں تربیت اولاد کی اصل ذمہ دار عورتوں کو ٹھہرایا ہے چنانچہ اس تعلق میں آپ نے فرمایا کہ:۔اصل ذمہ داری عورتوں پر بچوں کی تعلیم و تربیت کی ہے اور یہ ذمہ داری جہاد کی ذمہ داری سے کچھ کم نہیں۔اگر بچوں کی تربیت اچھی ہو تو قوم کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے اور قوم ترقی کرتی ہے۔اگر ان کی تربیت اچھی نہ ہو تو قوم ضرور ایک نہ ایک دن تباہ ہو جاتی ہے پس کسی قوم کی ترقی اور تباہی کا دارو مدار اس قوم کی عورتوں پر ہی ہے۔حضور نے اپنی اس تقریر میں مردوں کو بھی ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔خاص طور پر عورتوں کے جذبات کا خیال رکھنے اور اُن کے رشتے داروں سے حسن سلوک کی تلقین فرمائی ہے۔اس سلسلہ میں آپ نے بڑی ہی پر حکمت بات فرمائی کہ عورتوں کے جذبات کا خیال نہ رکھنے سے وہ کئی قسم کی بیماریوں میں مبتلاء ہو جاتی ہیں اس لئے مرد کو اپنی بیوی کے جذبات کا خیال رکھنا چاہئے۔اس تقریر کے آخر پر حضور نے تحریک جدید اور عورتوں کی ذمہ داریوں پر بھی مختصر روشنی ڈالی ہے اور تحریک جدید کے سادہ زندگی کے مطالبہ کا عورتوں کے ساتھ گہرا تعلق بیان کرتے ہوئے عورتوں کو نصیحت فرمائی کہ:۔د و پس تحریک جدید میں عورتوں کا بہت بڑا دخل ہے۔تم اقتصادی طور پر اپنے خاوندوں کی مدد کرو، سادہ خوراک اور سادہ کھانے کی عادت ڈالو، جو عورت زیور سے خوش ہو جاتی ہے وہ بڑے کام نہیں کر سکتی۔پس سادہ کھانا کھاؤ ، سادہ کپڑے پہنو اور مساوات قائم کرو ورنہ خدا تعالیٰ خود تمہارے اندر مساوات قائم کر دے گا“۔(11) بانی سلسلہ احمدیہ کوئی نیادین نہیں لائے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ۲۷ / دسمبر ۱۹۳۸ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر یہ تقریر