انوارالعلوم (جلد 15) — Page 123
انوار العلوم جلد ۱۵ فیصلہ ہائی کورٹ بمقدمہ میاں عزیز احمد اور جماعت احمدیہ ممبر ہونے کے سبب سے ہمیں نہ کوئی دنیوی وجاہت حاصل ہے جس کی کوئی قیمت سمجھی جائے اور نہ کوئی سیاسی رتبہ حاصل ہے جس کا کوئی لحاظ کیا جائے۔پس اگر صرف ہماری ذات کا سوال ہو تو پھر تکلیف جو ہمیں پہنچے وہ ایک ادنی سی قربانی ہے جو ہم اپنے رب کے حضور میں پیش کرتے ہیں اور کوئی بیش قیمت تحفہ نہیں جو اس بادشاہ کے پاؤں میں رکھتے ہیں لیکن جب قربانی ہماری ذات کی نہ ہو بلکہ سلسلہ کی ہوا اور نقصان ہمارا نہ ہو بلکہ ہماری جان سے پیارے دین کا ہوا اور ہمارے اخلاق کا دھبہ ہمارے چہرہ پر نہیں بلکہ ہماری پاک تعلیم کے ماتھے پر سیاہ نشان بنا کر لگایا جارہا ہو جیسا کہ ہمارے مخالف لوگ کر رہے ہیں تو پھر ایک ایسا غم اور دکھ پہنچتا ہے جس کا اندازہ انسان نہیں لگا سکتے اور اسی وجہ سے آج میرا دل غم سے بھرا ہوا ہے اور میری پیٹھ فکروں کے بوجھ سے خم ہو رہی ہے۔اگر اسلام کا جھنڈا آج میرے ہاتھ میں نہ ہوتا ، اگر اسے کامیابی کے ساتھ اقبال کی پہاڑی پر گاڑنے کا کام خدا تعالیٰ نے میرے سپرد نہ کیا ہوتا تو میں خدا تعالیٰ سے کہتا اے میرے خدا! اے میرے خدا! میں اپنے ہی لوگوں کی اصلاح میں ناکام رہا ہوں ، میں اپنے ہی لوگوں کی غلطیوں کی وجہ سے بدنام ہو ا ہوں ، اے خدا ! تو جانتا ہے کہ میں نے وہ نہیں کہا جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ میں نے کہا اور تیرے وہ بندے بھی جانتے ہیں جنہوں نے مجھے دیکھا اور سمجھا لیکن اے میرے رب ! میرے ہی بعض ساتھیوں کے ذریعہ سے ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ وہ ہاتھ جسے تو نے سورج کی طرح روشن بنایا تھا داغدار نظر آ رہا ہے۔پس اگر میرا وجود تیرے دین کی اشاعت میں روک بنتا ہے تو مجھے اس ذمہ داری سے سبکدوش کر اور اپنے پاس جہاں بدظنیاں نہیں ، جہاں حقیقت پر شک کا پردہ نہیں ڈالا جا سکتا ، اپنی بخشش کی چادر کے کسی کو نہ میں جگہ دے دے لیکن میں اپنے لئے موت بھی تو نہیں مانگ سکتا کیونکہ گو ایک بے جان جسم کسی کام کا نہیں لیکن جب تک سانس چلتا ہے ایمان کی ذمہ داریاں اس پر عائد ہیں اور مذہب اور اخلاق کی جنگ کے میدان سے بھا گنا کسی طرح جائز نہیں کیونکہ روحانی جنگ جو مذاہب کے درمیان دلائل و براہین اور نشانات الہیہ سے ہو رہی ہے وہ دنیا کی جنگوں سے کہیں اہم ہے۔جب دنیا کی حکومتیں جسمانی جنگوں سے تھک جانے والوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں تو جو شخص اخلاق اور دین کی جنگ سے جو روحانی ہتھیاروں سے لڑی جاتی ہے سبکدوشی کا خیال کرے ، وہ کس قدر حقیر نہ سمجھا جائے گا۔پس میرے لئے سب راہیں بند ہیں سوائے آگے بڑھنے کے اور میں اپنے رب سے شکوہ نہیں کرتا کیونکہ اس نے جس مقام پر مجھے رکھا