انوارالعلوم (جلد 15) — Page 122
انوار العلوم جلد ۱۵ فیصلہ ہائی کورٹ بمقدمہ میاں عزیز احمد اور جماعت احمدیہ ہی میں سے ایک شخص پر ہے اور جب میں اس نقطہ نگاہ سے اس معاملہ کو دیکھتا ہوں تو میرے دل سے بے اختیار یہ آواز آتی ہے کہ محمود جس قوم کی خدمت تو نے بچپن میں اپنے ذمہ لی ، جس کی خدمت جوانی میں تو نے کی جب تیرے بال سفید ہو گئے جب تیری رگوں کا خون ٹھنڈا ہونے کو آیا تو ان میں سے بعض کی وجہ سے تجھ پر اس فعل کا الزام لگایا گیا جس فعل کو دنیا سے مٹانے کیلئے تیرا بچپن اور تیری جوانی خرچ ہوئے تھے۔جب ہم میں سے بعض نے اپنے خدا پر بدظنی کی اور خیال کیا کہ وہ جائز راستوں سے ہماری مدد نہیں کر سکتا اور اس کا بتایا ہو ا طریق ہمیں کامیاب نہیں بنا سکتا تو بتا کہ اگر دنیا کے لوگ تجھ پر اور تیرے دوستوں پر بدظنی کریں تو اس میں ان کا کیا قصور اور اگر حج یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ ملک کا امن قائم کرنے کیلئے ایک مستحسن قدم اُٹھاتے ہیں کوئی ریمارک کریں تو اس میں ان پر کیا الزام کیونکہ وہ شخص زیادہ مجرم ہے جو اپنے خدا پر بدظنی کرتا ہے بہ نسبت اس کے جو کسی بندہ پر بدظنی کرتا ہے۔یہ ایک قانون قدرت ہے کہ اگر غم کی حالت میں انسان دوسرے پر اس غم کی ذمہ داری تھوپ سکے تو یہ اس کے غم کو ہلکا کر دیتا ہے لیکن جب میں سوچتا ہوں اور اس غم کا موجب خود اپنی ہی جماعت کو پاتا ہوں اور غلط فہمیوں کا پیدا کرنے والا خود انہیں کو دیکھتا ہوں تو میرا دل بالکل پکھل جاتا ہے اور میری آنکھیں ندامت سے جھک جاتی ہیں۔اے بھائیو! اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان چونکہ دل کے خیالات کو نہیں پڑھ سکتا ، وہ غلط نہی میں مبتلاء ہوسکتا ہے اور رائے وہی ہے جو عالم الغیب خدا کی ہوا اور ہم تو دوسروں سے دکھ دیئے جانے اور گالیاں سننے کے عادی ہو چکے ہیں لیکن اس موجودہ ابتلاء اور پہلے ابتلاؤں میں یہ فرق ہے کہ پہلے مخالف اخبار اور مخالف واعظ جو کہتے تھے وہ اپنی طرف سے کہتے تھے اور انسانوں میں سے شریف طبقہ ان کی باتیں پڑھ کر یا سن کر کہتا تھا کہ یہ لوگ احمدیوں کے دشمن ہیں ان کی باتوں پر بلا سوچے اور بغیر تحقیق کے اعتبار نہ کر ولیکن اب جو کچھ ہمارے دشمن اخبارات اور دشمن لیکچرار کہتے ہیں وہ انہیں صوبہ کی اعلیٰ عدالت کے ججوں کی طرف غلط طور پر یا صحیح طور پر منسوب کر کے کہتے ہیں اور اس کا نہایت بُرا اثر ہماری تبلیغ پر پڑسکتا ہے۔پس اس وجہ سے طبعا اس حادثہ کا اثر میری طبیعت پر شدید پڑا ہے نہ اپنی ذات کے لئے بلکہ خدا کے دین کیلئے اور اس کے سلسلہ کی اشاعت میں روک پیدا ہونے کے خیال سے کیونکہ گو ہم ذلیل اور حقیر وجود ہیں اور آخر ایک غیر حکومت کے تابع ہیں اور ایک کمزور جماعت کا فرد ہونے کے لحاظ سے اور ایک چھوٹی سی اقلیت کا