انوارالعلوم (جلد 15) — Page 84
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی پھر کہتا ہے کہ اس اندھیر کو دیکھو کہ برٹش میوزیم میں فلاں نمبر پر فلاں کتاب ہے۔اس میں فلاں پادری کے نام کا ایک خط درج ہے جو کسی عیسائی نے انہیں لکھا تھا کہ صاحب من ! مسلمانوں کی موسیقی نہایت اعلیٰ درجہ کی ہے اور ہماری موسیقی اس کے مقابلہ میں بہت بھڑی معلوم ہوتی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ ان کے علوم کا یورپین لوگوں کیلئے ترجمہ کر دوں مگر میں ڈرتا ہوں کہ مسلمانوں کا علم نقل کرنے سے پادریوں کی طرف سے مجھ پر کفر کا فتویٰ نہ لگ جائے آپ کی اس بارہ میں کیا رائے ہے؟ اگر یہ علم نقل کر لیا جائے تو گر جوں کو اس سے بڑا فائدہ پہنچے گا۔اس کا جواب بشپ صاحب نے یہ دیا کہ بیشک ان علوم کو اپنی کتابوں میں نقل کر لومگر ایک بات کا خیال رکھنا اور وہ یہ کہ اگر تم نے نیچے حوالہ دیدیا تو لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ علم عربوں سے لیا گیا ہے اور اس طرح اسلام کی عظمت ہمارے مذہب کے پیرؤوں کے دلوں میں بھی پیدا ہو جائے گی۔پس تم نقل بیشک کر و مگر حوالہ نہ دو تا لوگ یہ سمجھیں کہ یہ علم تم اپنی طرف سے بیان کر رہے ہو۔چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ یہ خط آج تک برٹش میوزیم میں موجود ہے۔اسی طرح پیرس میں ۱۹۴۰ ء تک ابن رشد کا فلسفہ پڑھایا جاتا تھا مگر نام میں ذرا سا تغیر کر دیا جا تا تھا تا لوگوں کو یہ پتہ نہ چلے کہ یہ کسی مسلمان کا فلسفہ ہے۔لطیفہ یہ ہے کہ روم کی یونیورسٹیوں میں ایک دفعہ فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ فلسفہ کی یہ کتاب نہ پڑھائی جائے بلکہ فلاں کتاب پڑھائی جائے کیونکہ اب فلسفہ ترقی کر چکا ہے تو پادریوں نے کفر کا فتویٰ دے دیا اور کہا کہ یہ بے دینی ہے۔گویا ایک لمبا عرصہ گزرنے کے بعد انہیں اتنا خیال بھی نہ رہا کہ وہ ایک مسلمان کی لکھی ہوئی کتاب ہے بلکہ وہ یہ سمجھنے لگ گئے کہ یہ کسی عیسائی کی کتاب ہے اور اگر اس کی جگہ اب کوئی اور فلسفہ پڑھایا گیا تو کفر ہو جائے گا۔ہمارے لوگ نا واقعی کی وجہ سے بالعموم یہ کہا کرتے ہیں کہ یہ بات بھی عیسائیوں سے لی گئی ہے اور وہ بات بھی، حالانکہ مسلمانوں نے بحیثیت قوم عیسائیوں سے کوئی بات نہیں لی مگر عیسائیوں نے مسلمانوں سے بحیثیت قوم علوم سیکھے ہیں لیکن مسلمان چونکہ اب ان تمام علوم کو بھلا بیٹھے ہیں اور عیسائیوں نے یاد کر لئے ہیں بلکہ ان میں زمانہ کی ترقی کے ساتھ ترقی ہوگئی ہے اور ان کی شکل بھی بدل گئی ہے، اس لئے مسلمان پہچانتے نہیں ہیں اور اب تو غفلت کا یہ عالم ہے کہ مسلمانوں میں نہ دین باقی ہے نہ اخلاق ، نہ تمدن باقی ہے نہ سیاست، نہ تہذیب باقی ہے نہ ثقافت ، بس مغربیت ہی مغربیت ہے جو ان کا اوڑھنا بچھونا بن رہی ہے حالانکہ وہ تمام باتیں قرآن کریم میں موجود ہیں